کیا مقتدرہ عوام میں پھیلی شدید اکتاہٹ سے باخبر ہے، حفیظ اللہ نیازی کا تجزیہ
کثیر تعداد بذریعہ سوشل میڈیا یا روایتی لنگر گپ شپ گلی کوچوں اور ہر قسم کے اجتماعات میں اپنی اُکتاہٹ کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن اوپر تک ’سب اچھا‘ کی رپورٹ مسلسل پہنچتی رہتی ہے؛ تجزیہ کار کی ایکس اکاؤنٹ پر تحریر

لاہور(قدرت روزنامہ)معروف کالم نگار اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے اپنے حالیہ تحریری تجزیئے میں مقتدرہ، موجودہ ہائبرڈ نظام اور فیصلے سازوں کے گرد موجود ’سب اچھا‘ کے کلچر پر سخت سوالات اٹھا دیئے۔ اس حوالے سے اپنی ایک تحریر میں حفیظ اللہ نیازی نے لکھا کہ وطنِ عزیز کے طول و عرض میں عوام الناس کے اندر مقتدرہ کے لیے حمایت یا ہمدردی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، گلی کوچوں، سوشل میڈیا، اور سماجی و سیاسی اجتماعات میں لوگ بغیر کسی خوف کے اپنی اکتاہٹ اور تنقید کا اظہار کر رہے ہیں، دوسری طرف اقتدار میں موجود سیاسی حصہ دار کمال مہارت سے ہر خرابی کا ملبہ ’ہائبرڈ نظام‘ اور ’بڑے بھائی‘ پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔
کیا مقتدرہ جانتی ہے یا دیانتداری سے جاننا چاہتی ہے کہ وطن عزیز کے طول و عرض میں موجود عوام الناس میں اُن کے لئیے حمائت ہمدردی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ کثیر تعداد بلا جھجک ، بغیر کسی روک ٹوک بعذریہ سوشل میڈیا یا روائتی لنگر گپ شپ گلی کوچوں ، ہر قسم کے مذہبی سماجی معاشرتی معاشی…
— Hafeezullah K Niazi (@hafeezullah_k) August 30, 2026
ان کا کہنا ہے کہ اصل لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ سب سے بڑے باس کی خوشنودی کے لیے انہیں زمینی حقائق سے بے خبر رکھنا ایک روایت بن چکا ہے، ماتحت افسران اور اقرباء پہلے اپنے ہتھکنڈوں سے ’سب اچھا‘ کا مصنوعی ماحول بناتے ہیں اور پھر اسے خوبصورت پیکنگ میں اوپر پیش کردیتے ہیں، میدانِ جنگ میں ایک ماتحت افسر اپنے کمانڈر کو سچ بتاتا ہے کیونکہ وہاں خوشامد جان لیوا ہوتی ہے لیکن سیاسی نظم و نسق سنبھالنے کے بعد سیاسی انجینئرنگ کے تقاضے عسکری اصولوں کے الٹ ہو جاتے ہیں جہاں ہر شخص ایک دو سال میں اپنا نام بنانے اور ترقی کنفرم کرانے کی چکر میں رہتا ہے۔
حفیظ اللہ نیازی نے الفاظ میں لکھا کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے قریبی اور ہمدرد انہیں زمینی حقیقتوں سے بے خبر رکھتے ہیں، تو وہ دانستہ یا غیر دانستہ ان کا سب سے بڑا نقصان کر رہے ہیں، 15 دسمبر 1971ء تک جنرل یحییٰ خان کو بھی ’سب اچھا‘ کی رپورٹس دی جا رہی تھیں اور اگلے ہی دن 16 دسمبر کو ملک دو لخت ہوگیا۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ تاریخ ہمیشہ سب سے بڑے باس کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے، سچ چھپانے والے بعد میں انٹرویوز اور کتابوں کے ذریعے اپنی صفائیاں پیش کرتے نظر آتے ہیں، کسی ایک شخصیت يا سیاسی مفروضے کے تحفظ کی خاطر پورے ملک اور ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا ایک قومی المیہ بن چکا ہے، جس پر فوری طور پر سچائی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
