بدامني كے ذمه دار هيں نه خيمه بستى قبول هے،مستونگ ميں قبائلى جرگه


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)چیف آف بیرک تمندار شاہوانی نواب محمد خان شاہوانی کی زیر صدارت تخت ماڑی مستونگ میں شاہوانی قبائل و برادر اقوام کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا۔۔ جس میں کھڈکوچہ کی موجودہ صورتحال، مقامی آبادی کو درپیش مشکلات، باغات و زراعت کے تحفظ اور مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
جرگے میں شاہوانی قبائل کے ٹکری صاحبان، سفید ریش، معتبرین، عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور برادر اقوام کے نمائندوں نے شرکت کی۔
جرگہ سے چیف آف بیرک نواب محمد خان شاہوانی و دیگر مقررین میر محمد بخش شاہوانی، ٹکری عبدالصمد شاہوانی،ٹکری حاجی محمد حیات لہڑی، ٹکری احترام الحق شاہوانی،ٹکری مجیب شاہوانی،ٹکری ظہور شاہوانی، میر منیر شاہوانی حاجی نور جان شاہوانی،حاجی بہار خان شاہوانی سمیت دیگر شرکاء نے کھڈکوچہ کی مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف بیرک تمندار شاہوانی نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ مستونگ مختلف قبائل اور برادر اقوام کا ایک خوبصورت گلدستہ ہے جہاں صدیوں سے مختلف اقوام باہمی احترام رواداری اور بھائی چارے کے ساتھ آباد ہیں ۔۔۔مستونگ کھڈکوچہ سمیت اس وقت سراوان جھالاوان،رخشان سمیت پورا بلوچستان اور وزیر اعلٰی کا آبائی علاقہ ڈیرہ بگٹی میں بھی امن امان کی مجموعی صورتحال انتہائی مخدوش ہیں حالات کی خرابی کے باوجود وہاں پر تو باغات کی کٹائی اور مقامی آبادی کو منتقل کرنے کے حوالے سے وزیر اعلٰی کوئی بات نہیں کرتے۔۔ ریڈزون میں بھی جنگی کیفیت رہا مگر وہاں سے تو ایک بلڈنگ کو بھی ختم نہیں کیا گیا۔۔یہ امتیازی سلوک مستونگ بالخصوص کھڈکوچہ کے عوام کے ساتھ کیوں برتا جا رہا ہے۔ باغات کو ختم کرنے کے بعد کیا سرفراز بگٹی امن کی گارنٹی دے سکتے ہیں۔۔کل کو باغات ختم ہونے کے بعد پہاڑوں کو بھی ختم کرنے کا منصوبہ ہیں؟ غیر دانشمندانہ فیصلوں کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو مزید مشکلات میں مبتلا نہیں کیا جائے۔
کھڈکوچہ مستونگ کا گرین بیلٹ اور زرعی شناخت کا اہم مرکز ہے۔ یہاں کے باغات محض درختوں اور زمینوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی نسلوں کی محنت ان کے آباؤ اجداد کی امانت ان کے معاشی مستقبل اور آنے والی نسلوں کی امید کا سرمایہ ہیں ان باغات کی آبیاری اور آباد کاری میں زمینداروں نے اپنی زندگیوں کی قیمتی دہائیاں اور خون پسینے کی محنت صرف کی ہے۔ ایسے میں باغات کے خاتمے یا مقامی آبادی کی منتقلی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ انتہائی حساس اور دور رس اثرات کا حامل ہے۔زمیندار اپنے درخت تو کیا اس کے ایک ایک پتے کے وارث ہے وہ کسی کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ ان درختوں کو نقصان پہنچائیں۔
حکومت کی طرف سے کھڈکوچہ میں باغات کو ختم اور یہاں کی آبادی کی منتقلی کی غیر دانشمندانہ فیصلہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے عوام کو شدید اذیت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔۔۔۔بلوچستان اس وقت مجموعی طور پر شورش اور بدامنی کی زد میں ہے مگر کھڈکوچہ میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری یہاں کی مقامی آبادی اور ان کے باغات پر عائد کرنا قابل تشویش ہے۔مقامی آبادی کواپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنا اور خیمہ بستیوں میں منتقلی کسی صورت قابل قبول نہیں۔
نواب محمد خان شاہوانی نے مزید کہا کہ شاہوانی قبائل ہمیشہ امن بھائی چارے رواداری اور مظلوم کے ساتھ کھڑے رہنے کی روایت کے امین رہے ہیں۔
آج کے اس جرگے کا مقصد صرف اقوام شاہوانی کے لیئے نہیں بلکہ کھڈکوچہ کے عوام کو درپیش موجودہ مشکلات تکالیف اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر ان کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا اور ان کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہے۔ اس جرگے کا انعقاد صرف شاہوانی قبیلے کے لیے نہیں بلکہ کھڈکوچہ میں آباد تمام قبائل، برادریوں اور اقوام کی نمائندگی اور ان کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
کھڈکوچہ قبائل کا مشترکہ مسکن ہے جہاں سب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ موجودہ حالات نے بلاامتیاز ہر طبقے اور ہر قبیلے کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔یہاں آباد ہر خاندان اور ہر برادری نے اس خطے کی تعمیر و ترقی زراعت اور معاشرتی استحکام میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ صورتحال نے بلاامتیاز ہر طبقے ہر خاندان اور ہر قبیلے کو متاثر کیا ہے اس لیے اس مسئلے کا حل بھی مشترکہ مشاورت باہمی اتفاق اور اجتماعی حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ مستونگ میں کاریز نوتھ کاریزسور سمیت دیگر لنک روڈز کی طویل بندش سے عوام مشکلات کا شکار ہیں بند شاہراہوں کی فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ عوام کے مسائل حل ہوں۔مشکل کی اس گھڑی میں کھڈکوچہ کے عوام کے جان و مال عزت و آبرو کاروبار روزگار زراعت باغات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے میں آپ کے شانہ بشانہ ہوں۔۔۔
حکومت کسی بھی اقدام سے قبل وہاں کے عوام زمینداروں قبائل کو اعتماد میں لے تاکہ ایسا راستہ اختیار کیا جا سکے جو امن انسانی وقار معاشی استحکام اور عوامی مفاد کے تقاضوں پر پورا اترے۔
کھڈکوچہ میں آباد تمام اقوام کا جو بھی مشترکہ فیصلہ اور آئندہ کا لائحہ عمل ہوگا میں ہر فورم پر اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں۔

WhatsApp
Get Alert