ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر تاجروں میں اختلاف، کراچی میں کاروباری مراکز بند، لاہور میں مارکیٹیں کھلی

کراچی (قدرت روزنامہ) ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر تاجر تقسیم ہوگئے ، کراچی میں کاروباری مراکز بند ہے جبکہ لاہور میں مارکیٹیں کھلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال پر تاجروں میں اختلافات سامنے آگئے۔
کراچی میں کاروباری مراکز کی بندش کے حوالے سے صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا ہے کہ عوام نے کاروبار بند کرکے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا، کراچی کے سو فیصد تجارتی مراکز بند ہیں اور ہڑتال مکمل طور پر پرامن اور کامیاب ہے۔
رضوان عرفان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ریلیف دے اور تاجروں کے مسائل سن کر فوری حل کرے، پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر مسائل حل نہ کیے گئے تو ہڑتال کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ بازار کاروبار کی مختلف نوعیت کے باعث کھلے ہیں۔
دوسری جانب صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک بھر میں کاروبار معمول کے مطابق کھلا رہے گا۔
اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ آل پاکستان انجمن تاجران غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے اور تاجروں نے کسی سیاسی جماعت کی کال پر کبھی ہڑتال نہیں کی۔ انہوں نے حکومت سے پنجاب اور اسلام آباد میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ختم کرنے اور تاجروں کو بلا روک ٹوک کاروبار کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
لاہور میں صدر انجمن تاجران مجاہد مقصود بٹ نے بھی جماعت اسلامی کی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال مسترد کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کی تمام مارکیٹس معمول کے مطابق کھلی ہیں جبکہ تاجروں کو ہڑتال پر مجبور کرنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں۔
مجاہد مقصود بٹ نے پنجاب میں پیرا فورس کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب پیرا فورس تاجروں پر مبینہ طور پر ظلم کر رہی تھی تو جماعت اسلامی کہاں تھی۔
