خواتین وحضرات! معاملہ بگڑ چکا ہے، جن کا بگڑا ہے ان کو تب پتہ چلےگا جب پانی سر تک پہنچے گا
میرا خیال تھا کہ موجودہ نظام کی مدت 8 سال یعنی 2031 میں پوری ہوگی، مگر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے انجنئیرز کو شاید بہت جلدی ہے، بزرگانہ مشورہ! وفاداریاں بدلنے والے گاڑی سے اترنے کا فوری بندوبست کریں۔ حفیظ اللہ نیازی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ میرا خیال تھا کہ موجودہ نظام کی مدت 8 سال یعنی 2031 میں پوری ہوگی، مگر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے انجنئیرز کو شاید بہت جلدی ہے، بزرگانہ مشورہ! وفاداریاں بدلنے والے گاڑی سے اترنے کا فوری بندوبست کریں۔ ایکس پر حفیظ اللہ نیازی کے ٹویٹ کے مطابق خواتین و حضرات! معاملہ بگڑ چکا ہے البتہ جن کا بگڑا ہے ان کو اس وقت پتہ چلے گا جب پانی سر تک پہنچے گا یعنی کہ ان کے ڈوبنے کا وقت آئے گا۔
نظام میں کوئی ایسا بہی خواہ دوست موجود ہے جس کی موجودگی میں دُشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس نظام کے بارے میرے سارے سیاسی زائچے غلط ثابت ہوئے ہیں، معافی چاہتا ہوں ۔
میرا خیال تھا کہ موجودہ نظام کی مدت معیاد یعنی Expiry date آٹھ8 سال یعنی 2031 میں پوری ہونی تھی۔ مگر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے انجنئیرز کو شاید بہت جلدی ہے۔
خواتین و حضرات! معاملہ بگڑ چکا ہے البتہ جن کا بگڑا ہے ان کو اس وقت پتہ چلے گا جب پانی سر تک پہنچے گا یعنی کہ ان کے ڈوبنے کا وقت آئے گا۔ نظام میں کوئی ایسا بہی خواہ دوست موجود ہے جس کی موجودگی میں دُشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس نظام کے بارے میرے سارے سیاسی زائچے غلط ثابت ہوئے ہیں،…— Hafeezullah K Niazi (@hafeezullah_k) September 11, 2026
موجودہ نظام 2023 وسط سے شروع ہوا اور اسے اگلے آٹھ 8 سال چلنا تھا کیونکہ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے میڈ اِن پاکستان “نظام” کی آٹھ دس سال ہی شیلف لائف رہتی ہے۔
پاکستانی روایات کے مطابق اتنی دیر میں نکھٹو اولاد سے گھر والے بھی تنگ آ جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے جن کے ہاتھ میں نظام کو بھگانے کا اسٹیئرنگ وہیل steering wheel ہے ان کے اعتماد اور تیزیوں نے نظام کی مدت معیاد کو سُکیڑ دیا ہے، اُن کو جلدی ہے چنانچہ انکی ہی مہربانیاں کہ وقت سے پہلے موجودہ “نظام” اپنے انجام کو پہنچنے کو ہے۔
بزرگانہ مشورہ، جن جن نے وفاداریاں تبدیل کرنی ہے اور موجودہ “نظام” کی برق رفتار گاڑی سے اُترنا ہے، بہترین وقت ہے فورا” اترنے کا بندوبست کریں۔ میری بات کی تہہ تک صرف پیپلز پارٹی اور JUI کی قیادت ہی پہنچ پائے گی، باقی سیاسی جماعتوں کو اسکی ضرورت بھی نہیں ہے کہ باقیوں نے سپنی اپنی مد میں ابھی اپنا ” تھکیڑا ” اتارنا ہے۔
