12 ربیع الاول کو مبینہ پولیس کریک ڈاؤن؛ تیل کی کڑاہی میں گر کر جھلسنے والا پی ٹی آئی ورکر جاں بحق


لاہور (قدرت روزنامہ) 12 ربیع الاول کے روز عید میلادالنبی ﷺ کے موقع پر مبینہ پولیس ریڈ کے دوران کھولتے ہوئے تیل کی کڑھائی میں گر کر شدید جھلسنے والے پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم ورکر اشتیاق خان 18 روز تک میو ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد انتقال کرگئے۔ پی ٹی آئی رہنما زبیر خان نیازی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان کے مطابق اشتیاق خان 12 ربیع الاول کو پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں شدید زخمی ہوئے تھے، جنہیں علاج کے لیے میو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، ڈاکٹرز کی طویل کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
بتایا گیا ہے کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ آج دوپہر یو ای ٹی یونیورسٹی کے سامنے جی ٹی روڈ کے قریب واقع قبرستان میں ادا کر دی گئی ہے، جس میں پارٹی کارکنوں اور عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

واضح رہے کہ لاہور کے علاقے راجگڑھ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی عزیز اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماء زبیر نیازی کے گھر پر محفلِ میلاد کے دوران پولیس نے مبینہ طور پر چھاپہ مار کر متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا، پی ٹی آئی رہنما زبیر نیازی نے بتایا تھا کہ پولیس کی بھاری نفری نے راجگڑھ میں واقع ان کے گھر پر اس وقت چھاپہ مارا جب وہاں محفلِ میلاد کا اہتمام کیا گیا تھا، پولیس نے موقع پر موجود ان کی والدہ، ان کے بھائی ایڈووکیٹ شرجیل خان نیازی، رکنِ پنجاب اسمبلی سعدیہ ایوب، اشتیاق خان، مبین احمد، اور خالد اعوان سمیت 16 افراد کو اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔

پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ اشتیاق خان جو محفل میلاد النبی ﷺ میں موجود تھے، پولیس نےجب محفل پر دھاوا بولا تو بھگدڑ کے دوران وہ اور ایک اور شخص گرم کڑاہی میں گرگئے، افسوسناک امر یہ ہے کہ زخمی حالت میں بھی پولیس انہیں گرفتار کرکے لے گئی، جب کہ پولیس نے حراست میں لینے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی والدہ کو رہا کر دیا، تاہم باقی دیگر تمام رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کو ابھی بھی پولیس کی تحویل میں رکھا گیا۔

WhatsApp
Get Alert