عمران خان کی نااہلی سے متعلق دلائل پر مطیع اللہ جان کے شیرافضل مروت سے سخت سوالات


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وفاقی آئینی عدالت میں خیبرپختونخواہ کی وزاتِ اعلیٰ اور علی امین گنڈاپور کی بحالی سے متعلق درخواست پر سماعت کے بعد عدالت کے باہر سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت سے تند و تیز سوالات پوچھ لیے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی مطیع اللہ جان نے شیر افضل مروت کے ماضی کے بیانات یاد دلاتے ہوئے سوال کیا کہ ’آپ تو دعویٰ کرتے تھے کہ اگر عمران خان کہیں گے تو آپ فوراً استعفیٰ دے دیں گے، تو اب کیا آپ عمران خان کے کہنے پر اپنی نشست سے استعفیٰ دیں گے؟ آپ کو جو ووٹ ملے ہیں وہ دراصل عمران خان کے نام پر ملے ہیں، کیا اس آئینی عدالت میں آنے سے پہلے آپ کو اصولی اور اخلاقی طور پر استعفیٰ نہیں دینا چاہیے تھا؟، شیر افضل مروت نے جواب دیا کہ اب پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے، ان لوگوں نے خود مجھے اپنا دشمن بنا لیا ہے، اب یہ لوگ بھگتیں۔

مطیع اللہ جان نے شیر افضل مروت کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست کے نکات اور ان کے دلائل پر استفسار کیا کہ ’کیا عمران خان کو مختلف مقدمات میں ملنے والی سزائیں آپ کی نظر میں درست ہیں؟‘ اس پر شیر افضل مروت نے فوراً اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان کو ملنے والی تمام سزائیں سراسر غلط اور ناانصافی پر مبنی ہیں‘۔

اس نقطے کو پکڑتے ہوئے مطیع اللہ جان نے شیر افضل مروت کے سامنے سوال اٹھایا کہ ’اگر عمران خان کو ملنے والی تمام سزائیں غلط ہیں، تو پھر ان کی جانب سے کی گئی وزیراعلیٰ کی نامزدگی غلط کیسے ہوگئی؟ اگر آپ خود مانتے ہیں کہ ان کی سزائیں ناانصافی پر مبنی ہیں، تو پھر آپ عدالت میں عمران خان کی نااہلی کو بنیاد بنا کر اور ان کی سزاؤں کا سہارا لے کر یہ درخواست کیوں لے کر آئے ہیں؟، اس پر شیر افضل مروت نے مزید گفتگو سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بات نہیں کرتے!۔

WhatsApp
Get Alert