تربت میں بارڈر بندش، بھتہ خوری اور بدامنی کے خلاف آل پارٹیز کا احتجاجی جلسہ، ہزاروں افراد کی شرکت

سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کر کے عوام کو ذلیل کیا جا رہا ہے، جالگی اور عبدوئی بارڈر فوراً کھولے جائیں: مقررین


اگر عوامی مطالبات نہ مانے گئے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام دھرنوں کا سلسلہ شروع کریں گے: آل پارٹیز کیچ کا الٹی میٹم
تربت (ڈیلی قدرت) ضلع کیچ میں بدامنی، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، مبینہ جبری گمشدگیوں، سڑکوں اور بارڈر پوائنٹس کی بندش، مبینہ غیر ضروری ٹیکسز اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کے خلاف آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام تربت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو تربت پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی۔ ریلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، تاجر برادری، کاروباری شخصیات، مزدوروں، طلبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ریلی کی قیادت آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں فدا جان بلیدی، غلام یاسین بلوچ، ظریف زدگ، یونس جاوید، ڈاکٹر علی جان، ایڈووکیٹ مشکور انور، محمد جان دشتی، مولانا جاوید نعمانی، حاجی اسحاق روشن دشتی، نثار آدم جوسکی، کامریڈ گلزار دوست اور دیگر نے کی۔ شرکائ￿ ے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’بارڈر تجارت بحال کیا جائے‘‘، ’’مقامی لوگوں کو بارڈر تک رسائی کی ضمانت دی جائے‘‘، ’’تاجروں کا استحصال بند کیا جائے‘‘، ’’ناصر آباد سے ہوشاپ تک چیک پوسٹیں ختم کی جائیں‘‘، ’’شاہراہوں پر کھڑی رکاوٹیں ہٹائی جائیں‘‘، ’’روزی روٹی پر لاٹھی نہ چلائیں‘‘، ’’ایرانی خوردونوش پر عائد ٹیکس ختم کیا جائے‘‘ اور ’’سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے‘‘ جیسے مطالبات درج تھے۔تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی نے کہا کہ بارڈر کی بندش کسی صورت قابل قبول نہیں، کیونکہ صدیوں سے سرحدی تجارت علاقے کے لوگوں کے روزگار اور کاروبار کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربت سمیت ضلع کیچ میں امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے جبکہ چوری اور ڈکیتی کے واقعات بھی معمول بنتے جارہے ہیں۔فدا جان بلیدی نے کہا کہ شہر میں بھتہ خوری عام ہوگئی ہے اور بعض تاجروں و کاروباری افراد کو مختلف نمبروں سے فون کرکے بھتہ طلب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے سرفراز میڈیکل پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہری اپنی مدد آپ کے تحت چوروں کو پکڑتے ہیں، تاہم ان کے بقول بعض اوقات پولیس انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیتی ہے کہ وہ اداروں کے لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوانوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں سمیت دیگر عوامی مسائل پر آل پارٹیز کیچ کے پلیٹ فارم سے پریس کانفرنس کرکے 20 ستمبر کے احتجاج کی کال دی گئی تھی، تاہم احتجاج سے قبل بعض عناصر کی جانب سے اس سے لاتعلقی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل سے لاتعلقی دراصل عوام سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے۔فدا جان بلیدی نے تمام تجارتی اور فیول گزرگاہیں فوری کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسی کاروبار سے لوگوں کے گھر چلتے اور بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تاجروں کو تنگ کرنے کے بجائے انہیں سہولیات اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور، واشک اور دیگر علاقوں میں بارڈر تجارت ممکن ہے تو ضلع کیچ کا بارڈر کیوں محفوظ نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے جالگی اور عبدوئی بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند ہونے سے مریضوں، ڈاکٹروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے بقول لوگوں کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ان کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں۔ انہوں نے مبینہ غیر قانونی ٹیکسز کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما غلام یاسین بلوچ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی بنیادی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، تاہم ان کے بقول سیکیورٹی کے نام پر راستے گھنٹوں بند کرکے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران اپنی سیکیورٹی کے لیے دیواریں اونچی اور راستے بند کرنے کے بجائے عوام کے تحفظ پر توجہ دیں۔غلام یاسین بلوچ نے کہا کہ اگر سیاسی اور جمہوری جدوجہد کے راستے بند کیے جائیں گے تو نوجوانوں کو دوسرے راستوں کی طرف دھکیلے جانے کا خدشہ پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کیچ کے رہنما اور کارکن آئین و قانون پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی جدوجہد امن، روزگار اور عوامی حقوق کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیکیورٹی اداروں کا تحفظ بھی عوام کریں تو عام شہری تحفظ کے لیے کس سے رجوع کریں؟ ان کا کہنا تھا کہ کیچ کے عوام پرامن اور جمہوری لوگ ہیں اور موجودہ احتجاج عوامی مسائل کے حل کے لیے ہے۔بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر کامریڈ ظریف زدگ بلوچ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بارڈر بندش اور امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب سرحدی کاروبار بند ہے جبکہ دوسری جانب تاجروں کو مبینہ طور پر بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں۔ظریف زدگ نے سوال کیا کہ اگر ملک کی دیگر سرحدوں پر قانونی تجارت ہوسکتی ہے تو بلوچستان کی سرحدوں سے تجارت کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔ انہوں نے دشت سے ہوشاپ تک مبینہ بھتہ خوری اور آپسر و شاد آباد میں گھروں اور دکانوں کی مبینہ لوٹ مار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔انہوں نے احتجاج کے دوران پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد کے گھر پر حملے کو بھی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کیچ کی تحریک جاری رہے گی۔ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال، احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ایڈووکیٹ مشکور انور بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیچ ایک سیاسی، سماجی اور باشعور معاشرہ ہے اور یہاں کے عوام کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال اور معاشی تحفظ کی ضمانت آئین اور قانون نے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے بارڈر کی بندش کے باعث چودہ لاکھ آبادی والے ضلع کیچ کے عوام شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، کیونکہ بارڈر تجارت علاقے کی معیشت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے آزادانہ انتخابات، آزادانہ کاروبار اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔مشکور انور نے کہا کہ سڑکیں بند ہونے سے مریضوں کو مشکلات اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ عوام کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں سے عوامی مشکلات کا احساس کرنے اور شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ تاجروں، مزدوروں، طلبہ اور معاشرے کے مختلف طبقات کا مشترکہ احتجاج ہے۔ اگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔جلسے سے بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح، جمعیت علمائ￿ اسلام کے رہنما مولانا جاوید نعمانی، آل مکران تاجر اتحاد کے چیئرمین حاجی اسحاق روشن دشتی، سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست، بارڈر نمائندہ معتبر شیرجان، انجمن تاجران کیچ کے نثار احمد جوسکی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے تربت اور ضلع کیچ میں بدامنی، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، بارڈر پوائنٹس کی بندش اور عوامی آمدورفت میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کی سیاسی جدوجہد کو مزید منظم کرنے کا اعلان کیا۔مقررین نے تین بنیادی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کیچ میں امن و امان فوری طور پر بحال کیا جائے، سرحدی کاروبار اور تمام تجارتی و فیول گزرگاہیں کھولی جائیں اور سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں، دکانوں، عدالتوں اور ہسپتالوں کی بندش کا سلسلہ ختم کیا جائے۔جلسے میں سیاسی آزادیوں کے حوالے سے بھی مقررین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں مختلف قوم پرستانہ نعروں اور سیاسی اظہار کی گنجائش موجود ہے، تاہم بلوچ شناخت اور حقوق سے متعلق اظہار پر پابندیوں کے تاثر کو ختم کیا جائے۔مقررین نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، بی این پی اور بلوچستان نیشنل الائنس کے بعض نمائندوں کی جانب سے احتجاج سے لاتعلقی اختیار کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عوامی مسائل پر سیاسی جماعتوں کو عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔جلسے کے اختتام پر آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید نے احتجاج میں شریک سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، سول سوسائٹی، طلبہ، مزدوروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کیچ کی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ آج کا جلسہ احتجاجی تحریک کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور شٹر ڈاؤن ہڑتال، دھرنوں اور دیگر جمہوری احتجاجی اقدامات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ جلسے میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض واحد بجار بلوچ نے انجام دیے۔آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ کیچ کے عوام بدامنی، معاشی مشکلات، بارڈر بندش، سڑکوں کی بندش اور عدم تحفظ کی صورتحال کے خلاف اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

WhatsApp
Get Alert