عمران خان سے بشریٰ بی بی کے ذریعے رابطے ہیں مگر خان ڈٹے ہوئے ہیں، نجم سیٹھی کا دعویٰ
عمران خان سے رابطے ہیں، کبھی کسی کو بھیج دیتے ہیں کبھی کسی کو بھیج دیتے ہیں، کبھی عمران خان مل لیتے ہیں کبھی عمران خان کہتے ہیں میں نے ان سے نہیں ملنا؛ سینئر صحافی و تجزیہ کار کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)معروف سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور حکومت کے ساتھ بیک ڈور رابطوں پر انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان سے مختلف ذرائع اور بشریٰ بی بی کے ذریعے باقاعدہ رابطے قائم ہیں، تاہم عمران خان اب بھی اپنے مؤقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے اپنے ٹی وی پروگرام میں سیاسی صورتحال پر تجزیہ دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے بتایا کہ عمران خان سے مسلسل رابطوں کی کوششیں جاری رہتی ہیں، کبھی کسی کو بھیجا جاتا ہے تو کبھی کسی اور کو بھیج دیتے ہیں، عمران خان کبھی مل لیتے ہیں تو کبھی صاف انکار کر دیتے ہیں لیکن بشریٰ بی بی کے ذریعے ریگولر رابطے موجود ہیں، تاہم تمام تر رپورٹس یہی بتا رہی ہیں کہ عمران خان اپنے مطالبات اور مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
عمران خان سے رابطے ہیں کبھی کسی کو بھیج دیتے ہیں کبھی کسی کو بھیج دیتے ہیں کبھی عمران خان مل لیتے ہیں کبھی عمران خان کہتے ہیں میں نے ان سے نہیں ملنا اور بشری بی بی کے ذریعے تو ریگولر رابطے ہیں مگر رپورٹس کے مطابق عمران خان ڈٹے ہوئے ہیں ! نجم سیٹھی ۔۔۔ pic.twitter.com/3SfxqKN0jt
— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) September 21, 2026
پی ٹی آئی کے احتجاج پر بات کرتے ہوئےانہون نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ انصاف کے جن مطالبات پر لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے وہ حکومت یا ریاست کی جانب سے کسی صورت نہیں مانے جائیں گے، پی ٹی آئی کی جو نئی حکمتِ عملی سامنے آئی ہے کہ اس مارچ کو 7 اکتوبر تک کھینچا جائے گا، اس ایک ہفتے کی تاخیر کا مقصد صرف یہ ہے کہ اگر اس دوران بیک ڈور سے کوئی بات چیت بننی ہے تو بن جائے یا عدالتوں سے ان کے حق میں کچھ فیصلے آ سکیں۔
ریاستی ردِعمل کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی نے اس بار اپنی سٹریٹ پاور کا استعمال کیا تو ریاست کی جانب سے بھی بھرپور طاقت کا استعمال دیکھنے کو ملے گا، دو سال قبل 2024ء میں جو کچھ ہوا تھا اس کی توقع نہ تو بشریٰ بی بی کو تھی اور نہ ہی علی امین گنڈاپور کو تھی لیکن وہاں ایسی مار پڑی کہ وہ دو سال تک دوبارہ نکلنے کی ہمت نہ کرسکے، اس بار بھی ریاست کا رویہ بالکل وہی ہوگا جو 2024ء میں دیکھا گیا تھا۔
