کیپٹن صفدر کی گرفتار کیلئے ہوٹل کا کمرہ توڑا گیا تو وہاں مریم نواز بھی تھی، اس پر بہت شور ہوا کہ فسطائیت ہے، شہزاد اقبال

لاہور (قدرت روزنامہ) صحافی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتار کیلئے ہوٹل کا کمرہ توڑا گیا تو وہاں مریم نواز بھی تھی اس پر بہت شور مچایا گیا کہ فسطائیت ہے، آج یہ فسطائیت پنجاب میں کئی گھروں میں ہو رہی ہے، کیا جب ان کی باری آئے گی تو یہ انتقام نہیں لیں گے؟ اپنے وی لاگ میں شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کے لیے ہوٹل کا کمرہ توڑا گیا جس میں مریم نواز صاحبہ بھی تھی اس پر بہت شور مچایا گیا۔
ملک میں اس جو کچھ ہورہا ہے، پی ٹی آئی اس کا سامنا کررہی ہے، یعنی گھروں میں چھاپے مارنا ، رات کو ان کی بہنوں کو گرفتار کرلینا، فیملی کے سامنے گھروں میں توڑ پھوڑ کرنا، یہ کہیں بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں کرتے اور امن وامان کیلئے نہیں بلکہ فسطائیت ہے، آواری ٹاور میں کیپٹن صفدر کو پکڑنے کیلئے ہوٹل کا کمرہ توڑا گیا، جس کمرے میں مریم نواز بھی موجود تھی، ایک واقعہ تھا جس پر اتنا شور برپا ہوا تھا، لیکن اج یہ واقعہ پنجاب میں کئی گھروں میں ہو رہا ہے، کیا یہ لوگ انتقام کی آگ میں جلتے نہیں رہیں گے، کیا جب ان کی باری آئے گی تو یہ نہیں کریں گے؟لیکن اس وقت دوسرے تماشائی کیوں خاموش ہیں؟ پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، پنجاب میں پیپلزپارٹی اپوزیشن جماعت ہے۔
کیپٹن صفدر کو گرفتار کرنے کے لیے ہوٹل کا کمرہ توڑا گیا جس میں مریم نواز صاحبہ بھی تھی اس پر بہت شور مچایا گیا لیکن اج یہ واقعہ پنجاب میں کئی گھروں میں ہو رہا ہے لیکن اس فسطائیت پر تمام سیاسی جماعتیں خاموش ہیں تو سوال یہ ہے کہ کل کو اگر یہ آپکے ساتھ ہو رہا ہوگا تو پھر کیا ہوگا،… pic.twitter.com/xYMN1B7QNE
— Ali Hassan (@AliJrnlst) September 22, 2026
کیوں آواز نہیں اٹھا رہے؟جماعت اسلامی بھی احتجاج کررہی ہے، ان کو پتا ہے ہمارے احتجاج کے اس طریقے سے نہیں تُن کے رکھا جائے گا جس طرح پی ٹی آئی کے ساتھ ہورہا ہے، ہمارے ساتھ بات چیت بھی ہورہی ہے، لیکن سکون میں ہیں، جے یوآئی ف بھی سکون میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کل کو جب آپ کے ساتھ ہوگا ، محسن نقوی کہتے صوبے بن کررہیں گے، جب نئے صوبوں کی بات ہوگی تو پیپلزپارٹی مزاحمت کرے گی تو کیاجب پیپلزپارٹی کے ساتھ بھی یہی رویہ رکھا جائے گا تو کیا پھر بھی دوسری جماعتیں خاموش رہیں گی؟کیا اس وقت بلاول بھٹو کے ساتھ سیاسی جماعتیں اور عدلیہ کھڑی ہوگی؟
