’پولیس نے ڈھائی گھنٹے کے لیے ہم سب کو حراست میں لیا، پھر کزنز اور اسٹاف کو واپس بھیج دیا‘

خالہ کو ساتھ لے گئے، میں اسے اغواء کہوں گا، خواتین کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے گھر سے بچوں کے سامنے بغیر کسی واضح جواز کے لے جانا قانونی طور پر درست ہے؟، علیمہ خان کے بیٹے شبیر شاہ کی گفتگو


لاہور(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے صاحبزادے شیر شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے حالیہ کارروائی کے دوران انہیں تقریباً ڈھائی گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، جبکہ ان کی خالہ کو دیگر افراد سے الگ کرکے ساتھ لے جایا گیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شبیر شاہ نے کہا کہ پولیس نے حراست کے دوران شناخت سے متعلق سوالات کیے، بعد ازاں ان کے کزنز اور اسٹاف کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ ان کی خالہ کو آگے لے جایا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اگر کسی شخص کو بغیر پیشگی اطلاع اور گرفتاری کی وجوہات یا قانونی حکم دکھائے بغیر حراست میں لیا جائے تو اسے اغوا بھی کہا جا سکتا ہے۔ تینوں بہنوں کو مبینہ طور پر اسی طرح لے جایا گیا۔ شیر شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا خواتین کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ان کے گھر سے بچوں کے سامنے بغیر کسی واضح جواز کے لے جانا قانونی طور پر درست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران دو کمسن بچوں کو بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم بچوں کی والدہ کے احتجاج کے بعد انہیں وہاں سے نہیں لے جایا گیا۔


اہل خانہ اور وکلا کو ان خواتین تک رسائی نہیں دی جا رہی، حالانکہ اس حوالے سے درخواست بھی دائر کی گئی ہے اور دوبارہ درخواست دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شیر شاہ نے دعویٰ کیا کہ خواتین کو درکار ادویات بھی اہل خانہ فراہم نہیں کر پا رہے اور سوال اٹھایا کہ آخر انہیں قانونی و اہل خانہ تک رسائی سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔

WhatsApp
Get Alert