حکمران شرافت کو کمزوری نہ سمجھیں، بدامنی نے صوبے کی معیشت تباہ کر دی مگر حکومت ذمہ داری لینے کو تیار نہیں: مولانا عبد الواسع

اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں نے عوام کو عدم تحفظ سے دوچار کیا، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں صفر ہو کر رہ گئیں


زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، حکومت سیاسی انتقام اور دباؤ کے بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دے: سینیٹر مولانا عبدالواسع
کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع نے گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کے اراکین اور صوبائی عاملہ کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ ملک میں آئین، قانون، جمہوریت، امن اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن اور شائستہ سیاسی جدوجہد کو ترجیح دی ہے، لیکن ہماری شرافت، بردباری اور پرامن طرزِ عمل کو کمزوری سمجھنے والے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ جمعیت علما اسلام اپنے اصولی مقف اور عوامی حقوق کے دفاع سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ ملک اور خصوصا بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوچکی ہے، بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، چوری ڈکیتی اور دیگر جرائم نے عوام کو شدید ذہنی اذیت اور عدم تحفظ سے دوچار کردیا ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ امن و امان کے قیام کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں جبکہ عوام اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور انہیں پرامن ماحول فراہم کرنا ہے، جب ریاستی ادارے اور حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتیں تو اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور معاشرے میں بے یقینی بڑھتی ہے، مولانا عبد الواسع نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی پسماندگی، بے روزگاری، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے حالات میں بدامنی نے صوبے کی معیشت اور تجارت کو بھی شدید متاثر کیا ہے اور کاروباری سرگرمیاں تقریبا صفر درجے تک پہنچ چکی ہیں، تاجر، صنعت کار، مزدور اور عام شہری معاشی مشکلات کا شکار ہیں جبکہ روزگار کے مواقع محدود سے محدود تر ہوتے جارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر نہ سرمایہ کاری ہوسکتی ہے، نہ تجارت فروغ پاسکتی ہے اور نہ ہی صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، اس لیے حکمرانوں کو محض بیانات اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، صوبائی امیر نے کہا کہ جمعیت علما اسلام بلوچستان عوام کے مسائل، آئینی حقوق، امن و امان اور معاشی استحکام کے لیے اپنی سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی غیر آئینی، غیر جمہوری اور عوام دشمن اقدام کو خاموشی سے قبول نہیں کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام طبقات کو باہمی اتفاق و اتحاد کے ساتھ بلوچستان میں امن، سیاسی استحکام اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، حکومت کو بھی سیاسی انتقام، دبا اور غیر ضروری پابندیوں کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے، انہوں نے واضح کیا کہ شرافت کو کمزوری سمجھنا حکمرانوں کی بڑی غلط فہمی ہوگی، پرامن جدوجہد ہماری طاقت اور ہمارا سیاسی تشخص ہے، لیکن عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر بھرپور آواز بلند کی جاتی رہے گی، اس موقع پر جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ بھی موجود تھے۔

WhatsApp
Get Alert