ہرنائی، زیارت اور دیگر پشتون علاقوں میں مسلح گروہوں کو مبینہ سرکاری سرپرستی اور سہولت کاری کی فراہمی ریاستی رٹ کے منافی ہے: پشتونخوا نیپ
کلی علیزئی شاہرگ پر حالیہ گولہ باری کھلی بربریت ہے، پشتون وطن کو خوف اور مسلح تنازعات کا میدان بنانے کی پالیسیوں نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا

پشتون اضلاع سے تمام مسلح گروہوں کا خاتمہ کر کے اختیارات فوری طور پر سول انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں
کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے ضلع ہرنائی، زیارت اور دیگر پشتون علاقوں میں سرکاری سرپرستی میں مسلح پراکسی گروہوں کی موجودگی کے الزامات اور کلی علیزئی شاہرگ پر حالیہ گولہ باری کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پشتون اضلاع سے مسلح گروہوں کا خاتمہ کرکے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔پارٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زمری شور، دمڑ پیڑی، تنگی شاہرگ، وام تنگی، سرکان، غڑمی اور دیگر علاقوں میں مختلف مسلح گروہوں کو سرکاری سرپرستی اور سہولتیں فراہم کیے جانے کے سنگین الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن کے نتیجے میں وقتا فوقتا پرتشدد واقعات رونما ہوتے ہیں اور عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔بیان کے مطابق پشتون وطن کو بدامنی، خوف اور مسلح تنازعات کا میدان بنانے کی پالیسیوں نے عوام کو مسلسل عدم تحفظ سے دوچار کر رکھا ہے، جبکہ ایسی صورتحال ریاستی رٹ، قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کے منافی ہے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ ضلع ہرنائی، زیارت اور دیگر پشتون اضلاع سے مسلح گروہوں کا خاتمہ، شہری و آئینی اداروں کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ تمام معاملات کو سویلین انتظامیہ کے ذریعے آئین و قانون کے دائرے میں حل کیا جانا چاہیے۔بیان میں کہا گیا کہ پائیدار امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ریاستی اداروں کو غیر جانب داری، قانون کی حکمرانی اور شہری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، جبکہ خطے کو ہر قسم کی مسلح مداخلت اور تنازعات سے پاک کرنا ضروری ہے۔
