جماعت اسلامی کی خیبرپختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مخالفت

لاہور (قدرت روزنامہ) امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خیبر پختونخواہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے اسے جمہوریت دشمنی اور نگران و اقتدار پر فائز قوتوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ردِعمل میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب منصبِ اقتدار پر فائز قوتیں گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے غیر آئینی و غیر جمہوری حربوں کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کریں تو اس کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ ان کی حکومت کا چراغ اب بجھنے والا ہے، جماعتِ اسلامی خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی مکمل مخالفت کرتی ہے کیونکہ ایسے غیر معمولی اقدامات مسائل کا حل ہرگز نہیں ہو سکتے۔
جب منصب اقتدار پر فائز قوتیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے ذریعے حکومت کرنے کی کوشش کریں تو صاف مطلب ہے کہ ان کی حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کرتے ہیں، یہ مسائل کا حل نہیں۔ پی ڈی ایم جماعتوں نے رجیم چینج کے وقت سے جو تماشا شروع کیا ہے آج تک جمہوریت دشمنی کا یہ سفر جاری ہے ۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی تاریخ گورنر راجوں اور مینڈینٹ تسلیم نہ کرنے کی تاریخ ہے۔ واضح ہوچکا کہ فارم سینتالیس کے ذریعے مسلط کردہ یہ نظام پوری طرح فلاپ ہوگیا ہے۔
— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) October 11, 2026
امیرِ جماعتِ اسلامی نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں پر تنقید کے تیر چلاتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے رجیم چینج کے وقت سے جو تماشا شروع کیا تھا، آج تک ان کا جمہوریت دشمنی کا یہ سفر تسلسل کے ساتھ جاری ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی تاریخ ہمیشہ سے گورنر راج نافذ کرنے اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے سے بھری پڑی ہے، خیبر پختونخواہ کے موجودہ حالات اور اس قسم کے اقدامات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ فارم 47 کے ذریعے ملک پر مسلط کردہ یہ نظام اب پوری طرح فلاپ اور ناکام ہو چکا ہے۔
