ایک جرنلسٹ نے کہا آپ نے ہمیں سرپرائز کیا، سوچ نہیں سکتے تھے آپ اتنی کامیاب ہوجائیں گی، مریم نواز

وزیراعلیٰ کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں، لوگوں کو لگتا ہے حکومت چلانا بہت آسان ہے، اللہ نے ایسی کرسی پر بٹھایا جہاں بہت چیلنجز ہیں؛ وزیراعلیٰ پنجاب کا سندھ کے انتظامی سروس کے افسران سے خطاب


لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ حکومت چلانا بہت آسان کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی کرسی پر بٹھایا ہے جہاں ہر دن ایک نیا چیلنج ہے، جس کے کندھوں پر ذمہ داری ہو اسے رات کو نیند بھی نہیں آتی، لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ اللہ نے ایسے مقام پر رکھا جہاں میرا ایک فیصلہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔
سندھ کے انتظامی سروس کے افسران سے ملاقات اور خطاب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک جرنلسٹ نے مجھ سے کہا کہ آپ نے ہمیں سرپرائز کیا ہے اور ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آپ اتنی کامیاب ہو جائیں گی، میری جتنی تعریف ہوتی ہے اس سے زیادہ تنقید کی جاتی ہے، مگر مجھے اس کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے، اور میں روزانہ 30 کالز سن کر رات کو سوتی ہوں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ چیف سیکریٹری اکثر کہتے ہیں کہ پہلے یہ ہوتا تھا کہ وزیراعلیٰ بلا لیں تو پورا دن ضائع ہونے کا علم ہوتا تھا اور 10 بجے کا وقت ہو تو میٹنگ ساڑھے 12 بجے سے پہلے شروع نہیں ہوتی تھی، لیکن اب میں خود اگر کہیں 10 بجے پہنچنا ہو تو 9 بج کر 55 منٹ پر پہنچ جاتی ہوں، آسان کام کرنا آسان ہے مگر میں نے اس طریقے کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے، میرے پروگرام میں میٹنگ 10 بجے کی ہے تو وہ اسی وقت ہوگی، ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جہاں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر 20 بندے دو دو گھنٹے انتظار کرتے ہیں، ان کی اپنی کابینہ میں بھی ایسے وزیر ہیں جو لوگوں کو بلا کر بھول جاتے ہیں کہ باہر لوگ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ملک نے ہمیں تعلیم، تربیت، پہچان اور عزت دی ہے، اب فیلڈ میں جا کر عوام کی خدمت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، میری تعلیم پاکستان میں ہوئی، میں یہیں پیدا ہوئی، پلی بڑھی اور یہیں تعلیم حاصل کی، آج اللہ نے اس مقام پر بٹھایا ہے اس لیے پاکستانی ہونے پر فخر ہے، لوگ بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا ہے اور ہم باہر جا رہے ہیں، اس ملک نے ہمیں عزت دی ہے، میں نے خود باہر سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ بچے باہر سے پڑھے ہیں، آج میں کسی بھی ملک جاؤں اور پوچھا جائے آپ کہاں سے پڑھی ہیں تو وہ فخر سے کہتی ہوں کہ ’برن اِن پاکستان، میڈ اِن پاکستان‘۔

WhatsApp
Get Alert