مراد سعید کب اور کیسے افغانستان گئے، غریدہ فاروقی کے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر اینکر و تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا کہ مراد سعید نے بطور رکن اسمبلی اور وفاقی وزیر حلف اٹھایا تھا اور وہ آج بھی اس حلف کے پابند ہیں۔ ان کے بقول، مراد سعید کو نام اور مقام پاکستان نے دیا، کیونکہ جب وہ پہلی مرتبہ رکن اسمبلی بنے تو انہیں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر مراد سعید افغانستان میں موجود ہیں تو وہ ملک دشمن عناصر کے ساتھ جا کر کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔
آزاد ڈیجیٹل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے غریدہ فاروقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید ایک سال قبل افغانستان گئے تھے اور گزشتہ ایک سال سے وہیں موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مراد سعید پاکستان میں موجود ہوتے تو اب تک سامنے آ چکے ہوتے، جبکہ بطور رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر ان کے پاس ریاستی راز بھی ہو سکتے ہیں۔
غریدہ فاروقی نے کہا کہ مراد سعید جن بڑے سیاسی رہنماؤں کو اپنا لیڈر مانتے ہیں، وہ سب جیل میں ہیں۔ ان کے مطابق، عمران خان نے ان رہنماؤں کو سامنے آنے سے نہیں روکا، اس لیے یہ بات قابل فہم نہیں کہ صرف مراد سعید کے بارے میں ایسا کہا گیا ہو کہ وہ سامنے نہ آئیں۔
انہوں نے ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی کو ایک سکے کے دو رخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی اے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہے۔ غریدہ فاروقی کے مطابق، مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی سے تحریک انصاف کے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں اور اس معاملے پر جماعت کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ محض بیانات دینے کے بجائے مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی کے معاملے کو سنجیدگی سے لے، افغان سفیر سے جواب طلب کرے اور ضرورت پڑنے پر انہیں ڈی مارچ بھی جاری کیا جا سکتا ہے۔
غریدہ فاروقی نے مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ آخری مرتبہ ڈیرہ اسماعیل خان کب گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے کو بھی مبینہ طور پر دہشت گردوں نے گاڑی سے اتار لیا تھا اور دہشت گردی کے خوف کے باعث مولانا خود ڈیرہ اسماعیل خان نہیں جا سکتے۔
انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی داخلی جمہوریت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جماعت کو بتانا چاہیے کہ گزشتہ 60 سال میں ایک خاندان کے علاوہ کون اس کا سربراہ بنا ہے۔ ان کے مطابق، جب کسی جماعت کے اندر جمہوریت موجود نہ ہو تو اسے دوسروں کے سامنے جمہوریت کی بات کرنے سے پہلے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
غریدہ فاروقی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ایسے معاملات کی طرف نہیں جانا چاہیے جن پر انہیں خود کئی سوالات کے جواب دینا پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جمعیت علمائے اسلام گورنر راج کے خلاف بیانات دینے کے بجائے عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے کیس میں یہ تسلیم کر لیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ درست ہے اور آئینی شقوں کے مطابق کیا گیا ہے۔
