الیکٹرک ٹوتھ برش اور واٹر فلوسر: کیا واقعی عام برش سے بہتر ہیں؟

لاہور(قدرت روزنامہ)دانتوں کی صفائی کے لیے اب عام روایتی ٹوتھ برش کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں الیکٹرک ٹوتھ برش اور واٹر فلاسز کی مانگ میں بڑا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان جدید آلات کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ دانتوں پر جمی میل کی تہہ صاف کرنے اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہر شخص کے لیے ان کا استعمال ضروری ہے یا عام ٹوتھ برش ہی کافی ہے؟

ماہرین کے مطابق الیکٹرک برش اور واٹر فلاس کا انتخاب اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی شخص برش کرنے کا کیا طریقہ اپناتا ہے، اس کے مسوڑھوں کی صحت کیسی ہے، اس کے ہاتھ کی حرکت کتنی بہتر ہے اور اس کا مجموعی دانتوں کا نظام کیسا ہے۔

دانتوں کی دیکھ بھال میں سب سے اہم چیز مستقل مزاجی ہے، چاہے آپ عام طریقہ استعمال کریں یا مہنگی ٹیکنالوجی۔

الیکٹرک ٹوتھ برش کتنا فائدہ مند ہے؟

الیکٹرک ٹوتھ برش عام برش کی طرح ہاتھ سے آگے پیچھے چلانے کے بجائے خود حرکت کرتا ہے۔ اس کے بعض ماڈلز میں وقت بتانے والا ٹائمر، زیادہ دباؤ ڈالنے سے خبردار کرنے والا نظام اور صفائی کے مختلف طریقے بھی موجود ہوتے ہیں۔

دانتوں پر کھانے کے ذرات اور جراثیم جمع ہونے سے ایک چپچپی تہہ بن جاتی ہے، جسے پلاک کہا جاتا ہے۔ اگر اسے باقاعدگی سے صاف نہ کیا جائے تو دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

ایک سائنسی جائزے کے مطابق الیکٹرک برش کے باقاعدہ استعمال سے چند ماہ کے اندر دانتوں پر جمی تہہ میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور مسوڑھوں کی سوجن میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم، الیکٹرک برش کا استعمال صحیح طریقے کا متبادل نہیں ہے۔

اگر روایتی برش کو دن میں دو بار دو منٹ کے لیے درست طریقے سے استعمال کیا جائے اور ساتھ میں فلوورائیڈ ٹوتھ پیسٹ کا استعمال ہو تو وہ بھی بہترین نتائج دے سکتا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی تبھی زیادہ فائدہ مند ہے جب وہ کسی خاص مسئلے کو حل کرے نہ کہ صرف شوق کے لیے اپنائی جائے۔

واٹر فلوسر کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

واٹر فلوسر ایک ایسا آلہ ہے جو پانی کی تیز دھار کے ذریعے دانتوں کے درمیان اور مسوڑھوں کے کناروں پر صفائی کرتا ہے۔ اس کا مقصد ان جگہوں سے کھانے کے ذرات نکالنے میں مدد دینا ہے جہاں عام برش آسانی سے نہیں پہنچ پاتا۔

یہ آلہ خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہوسکتا ہے جن کے دانتوں پر بریسز لگے ہوں، دانتوں کے درمیان دھاگا استعمال کرنا مشکل ہو یا دانتوں پر مخصوص قسم کے مصنوعی حصے لگے ہوں۔

تاہم، واٹر فلوسر ہر صورت میں عام ڈینٹل فلاس یعنی دانتوں کے درمیان صفائی کرنے والے دھاگے سے بہتر نہیں ہوتا۔ بعض افراد کے لیے انٹرڈینٹل برش، جو دانتوں کے درمیان صفائی کے لیے بنایا جاتا ہے، زیادہ موزوں ہوسکتا ہے۔

اس لیے ان آلات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے وقت دانتوں کے درمیان موجود جگہ، مسوڑھوں کی حالت اور صفائی کرنے میں آسانی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

کن لوگوں کو جدید آلات استعمال کرنے چاہییں؟

الیکٹرک ٹوتھ برش ان افراد کے لیے زیادہ مفید ہوسکتا ہے جنہیں ہاتھوں کی حرکت میں دشواری ہوتی ہے، جو عام برش سے دانت صحیح طریقے سے صاف نہیں کر پاتے یا جنہیں دانت صاف کرنے کے دوران وقت اور دباؤ کا خیال رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

اسی طرح بریسز لگوانے والے افراد یا وہ لوگ جنہیں دانتوں کے درمیان دھاگا استعمال کرنا مشکل لگتا ہے، واٹر فلوسر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

لیکن صرف جدید ٹیکنالوجی ہونے کی وجہ سے کوئی آلہ خریدنا ضروری نہیں۔ اگر موجودہ طریقے سے دانت اچھی طرح صاف ہورہے ہیں تو محض شوق کی خاطر مہنگا آلہ خریدنے کی ضرورت نہیں۔

خریدنے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھیں؟

الیکٹرک ٹوتھ برش یا واٹر فلوسر خریدنے سے پہلے اپنی ضرورت، استعمال میں آسانی اور خرچ کو ضرور دیکھیں۔ بعض آلات کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ الیکٹرک ٹوتھ برش کے برش ہیڈ وقتاً فوقتاً تبدیل کرنا پڑتے ہیں۔ واٹر فلوسر میں بھی دیکھ بھال اور بعض اضافی پرزوں پر خرچ آسکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ بھی اہم ہے کہ آپ جو آلہ خریدیں، اسے روزانہ صحیح طریقے سے استعمال کرسکیں۔ اگر کوئی آلہ خریدنے کے بعد باقاعدگی سے استعمال نہ ہو تو اس کی افادیت محدود رہ جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، ان آلات کے استعمال کے باوجود دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا ضروری ہے۔ اگر مسوڑھوں سے خون آتا ہو، منہ سے مسلسل بدبو آتی ہو یا دانتوں میں حساسیت محسوس ہوتی ہو تو دانتوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک برش ان افراد کے لیے اچھے ہیں جن کے ہاتھوں میں محدود حرکت کی کمزوری ہو یا جنہیں روزمرہ کی صفائی میں مدد کی ضرورت ہو۔ جبکہ واٹر فلاس ان لوگوں کے لیے بہتر انتخاب ہے جو روایتی دھاگہ استعمال کرنا پسند نہیں کرتے۔

کوئی بھی آلہ خریدنے سے پہلے تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جن میں ذاتی دانتوں کی صحت کی ضروریات، آلے کا استعمال میں آسان ہونا اور اس کا طویل مدتی خرچہ شامل ہے۔

یہ تمام جدید آلات دانتوں کی صفائی کو آسان تو بناتے ہیں، لیکن یہ باقاعدہ ڈینٹسٹ کے معائنے یا دانتوں کے کسی بھی مسئلے کی صورت میں پیشہ ورانہ طبی مشورے کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

WhatsApp
Get Alert