داسو واقعہ ; چین نے پاکستان کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کر دیا
بیجنگ ّ(قدرت روزنامہ) داسو واقعہ پر پاکستان کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پر چین نے اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چین نے خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئرز اور اہلکاروں پرحملے سے متعلق پاکستان کی تحقیقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان نے مختصر وقت میں بڑی پیش رفت دکھائی ہے۔
چین پاکستانی اقدامات کو سراہتاہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق چینی منصوبوں کی حفاظت کے لیے مل کر سکیورٹی پلان بہتربنائیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ داسو میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ ہے۔
حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس سازش میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغانی ایجنسی این ڈی ایس شامل تھی۔
چینی ورکرز کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا۔ حملے میں ملوث پورے نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ وزارت خارجہ نے بھی داسو دہشتگرد حملے کی تحقیقات کی تمام تفصیلات جاری کردی ہیں۔ جس میں بتایا گیا کہ داسو دہشتگرد حملہ 14 جولائی کو ہوا، 10 چینی، 3 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے، پاکستان نے دہشتگرد حملے کی جامع تحقیقات کیں، ہر موقع پر نتائج سے چین کو آگاہ کیا۔
دہشتگرد حملے میں ملوث نیٹ ورک کو افغانستان میں را اور این ڈی ایس کا تعاون حاصل تھا، کالعدم ٹی ٹی پی سوات نے دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ایما پر حملہ کیا۔ دہشتگرد حملے کی تمام تر منصوبہ بندی، مواد کی فراہمی افغانستان میں ہوئی، دھماکہ استعمال ہونے والی گاڑی افغانستان سے پاکستان لائی گئی۔ گاڑی میں دیسی ساختہ بارودی مواد نصب کیا گیا تھا، خودکش حملہ آور خالد عرف شیخ کو افغانستان میں تربیت دی گئی، خالد عرف شیخ کو خودکش حملے کے لیے افغانستان سے پاکستان لایا گیا، دہشتگرد حملے میں ملوث چند عناصر گرفتار کر لیے گئے، بقیہ افغانستان میں ہیں۔
افغان حکومت کو باہمی قانونی معاونت کی استدعا کی ۔ یاد رہے کہ 14 جولائی کو داسوہائیڈروپاورپراجیکٹ سائٹ کے قریب اپرکوہستان میں داسو ڈیم کے ملازمین کو لانے لے جانے والی بس حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق ہوگئے، جب کہ 39 افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں چینی انجینئیرز بھی شامل تھے۔ ابتدائی بیان میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ اپر کوہستان میں گیس لیکج دھماکے کے باعث بس کھائی میں جا گری ، حادثے کا شکار ہونے والی بس میں چینی ورکر سوار تھے ، بس کھائی میں گرنے سے گیس کا اخراج ہوا، گیس کے اخراج کی وجہ سے دھماکا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بس تکنیکی خرابی اور دھماکے کے باعث کھائی میں گر گئی۔حادثے میں 9 چینی شہری اور تین پاکستانی جاں بحق ہوئے۔چینی ورکرز پاکستانی عملے کے ہمراہ منصوبے پر کام کے لیے جا رہے تھے ۔ بعد ازاں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ داسو واقعے میں دھماکہ خیز مواد کے شواہد ملے ہیں ‘ دہشت گردی خارج از امکان نہیں ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ واقعے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان ذاتی طور پر تمام پیشرفتوں کی نگرانی کر رہے ہیں ، اس سلسلے میں حکومت چینی سفارتخانے کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں ہے ، ہم مل کر دہشت گردی کی لعنت سے لڑنے کے لئے پرعزم ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کے ایڈیٹر ان چیف ہوزی جن نے یہ بات خبر شئیر کرتے ہوئے کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں بس پر دہشتگردانہ حملے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ واپڈا کے زیرانتظام بننے والا یہ پراجیکٹ 2017ء میں شروع کیا گیا جس پر کُل لاگت کا تخمینہ 510 ارب روپے لگایا گیا ہے جوکہ 2025ء تک مکمل کیا جائے گا۔ ورلڈ بینک اور حکومت پاکستان کے اشتراک سے بننے والا یہ پراجیکٹ نا صرف کوہستان کے علاقے بلکہ پورے پاکستان میں روشنیوں اور ترقی کا ضامن بنے گا۔
