بلوچستان کے تین لاکھ ملازمین اپنے حقوق کے حصول کیلئے متحدہیں ، بلوچستان گرینڈ الائنس


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان گرینڈ لائنس کے چیئرمین پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں 3 لاکھ ملازمین اپنے حقوق کے حصول کیلئے متحد ہیں ۔ آئی ایم ایف کے نام اور ڈکٹیشن پر ملازم کش پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں ۔اشرافیہ مراعات اور ڈالرز حاصل کرکے جزیرے بنا کر ملازمین کے منہ سے نوالہ چھین کر ظلم کی انتہاء کررہے ہیںتنخواہ دار طبقہ سے 243 ارب ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔جب اپوزیشن اور حکمرانوں کی مرعات اور تنخواہوں کی بات آتی ہے تو سب ایک ہوتے ہیں اور ملازمین کی پنشن پر کٹ لگایا جاتا ہے۔اگر ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے فیصلہ کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار عبدالمالک کاکڑ، عبدالسلام زہری، علی بخش جمالی، فرید اچکزئی، محمد یونس کاکڑ، ندیم کھوکھر، منظور لالا، نصیب اللہ اور پروفیسر آغاز اہد سمیت دیگر نے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے سبزہ زار پر ملازمین کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ اراکین کی تنخواہیں 40 فیصد بڑھائی گئی ہےآئی ایم ایف کو یہ دکھائی نہیں دیتی اس کی نظر میں صرف ملازمین آتے ہیں سرکاری طور پر لاکھوں گاڑیاں میں اشرافیہ 120 ارب روپے کا فیول استعمال کرتے ہیں مقتدر قوتیں 78 سال سے 550 ارب کا مفت بجلی استعمال کرتا ہے اور ان کی نظریں استاد، ہیلتھ ورکر اور ایک صفائی کرنے والے ملزم پر لگی ہوتی ہے ہم اعلان کرتے ہیں کہ پرائیویٹائزیشن ، کنٹریکٹ، نجکاری ، ایڈہاک سمیت ان کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے صوبے کے 3 لاکھ ملازمین کا اتحاد 300 اور 600 ووٹ لینے والے وزراء کے اصلاحات کے نام پر ملازم کش پالیسیوں کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت کو کسی محکمے کی اصلاح کرنی ہے تو اس محکمے کے اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر فیصلے کریں بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں اصلاحات کے نام پر پرائیویٹائزیشن ، کنٹریکٹ، ٹھیکیدار نظام سمیت دیگر ناروا اقدامات ملازم کش پالیسی بنائے جارہے ہیں اداروں کی رکھوالی ہر صورت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو لاوارث صوبہ بنادیا گیا ہے یہاں طلباء، ٹریڈ یونینز پر پابندی عائد ہے بلکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا میں طلباء یونیورسٹی اور تعلیمی اداروں میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھ کر یہاں کے وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر لوگوں کو دیوار سے لگاکر بلوچستان کو کالونی کی طرز پر چلایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایس بی کے پوسٹوں پر مستقل بنیادوں پر تعیناتی کے آرڈرز جاری کئے جائیں کنٹریکٹ پالیسی ان پر لاگو نہیں ہوتی اگر انہیں مستقل ملازمتیں نہ دی گئیں تو ان کے احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پیکا آرڈیننس اور بلوچستان سے نیوز چینلز کے دفاتر کو بند کرکے اسٹاف کو برطرف کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *