بلوچستان کابینہ نے 1020 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 1020 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ 639 ارب روپے سے زائد کا غیر ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جب کہ وفاقی مالی معاونت والے منصوبوں کے لیے 66.5 ارب روپے، ایف پی اے اسکیمز کے لیے 30 ارب روپے اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 34 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آپریٹنگ اخراجات کی مد میں 43 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی آج بلوچستان اسمبلی میں باقاعدہ طور پر بجٹ پیش کریں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 98 فیصد اجرا ممکن بنایا گیا جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کا سہرا وزیر خزانہ، محکمہ پلاننگ اور دیگر اداروں کے سر باندھا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اسکل ڈویلپمنٹ منصوبہ کامیابی سے جاری ہے اور جلد 2300 نوجوانوں کا دوسرا بیچ تربیت کے لیے روانہ کیا جائے گا۔ زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے وفاق سے جلد فنڈز کی قسط ملنے کی امید ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 60 ارب روپے کے میگا پراجیکٹس میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور فنڈز براہ راست زمینداروں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ شعبہ تعلیم میں اہم پیش رفت کے طور پر SBK کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے اور 3200 بند اسکول دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔
صحت کے شعبے میں انقلابی قدم کے طور پر 150 بنیادی صحت مراکز (BHU) کو ٹیلی میڈیسن سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ پینشن ریفارمز پر بیوروکریسی، خصوصاً چیف سیکریٹری کی کوششوں کو سراہا گیا۔
پہلی بار پراسیکیوشن کو بجٹ میں سنجیدگی سے شامل کیا گیا ہے، جب کہ ہر ضلع میں ریسکیو 1122 کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بجٹ میں اسٹریٹیجک اور لائیولی ہڈ پراجیکٹس کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئے بجٹ میں ایریگیشن، کمیونیکیشن، تعلیم، صحت، امن و امان اور ماحولیاتی تبدیلی کو ترجیح حاصل ہے۔ کابینہ نے ترقیاتی بجٹ کے 98 فیصد اجرا پر اتحادی حکومت اور بیوروکریسی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
