آئینی ترمیم ہو یا کوئی اور معاملہ، مولانا فضل الرحمان کبھی گیلی پٹی پر پاؤں نہیں رکھتے،اپنی حیثیت اور اہمیت قائم رکھتےہیں،سلمان غنی


لاہور(قدرت روزنامہ)سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہےمولانا فضل الرحمان اپنی حیثیت اور اہمیت قائم رکھتے ہیں لیکن اس بار ان کی زیادہ ضرورت نہیں پڑی، کیونکہ قومی اسمبلی میں 2تہائی اکثریت حکومت اور ان کے اتحادیوں کے پاس موجود ہیں۔ لیکن ابھی سینیٹ میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے دوتہائی اکثریت حاصل ہے۔
دنیا ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان کبھی گیلی پٹی پر پاؤں نہیں رکھتے۔ پہلے ان کا جھکاؤ مسلم لیگ ن کی طرف سے تھا ، جو اب تبدیل ہو کر پیپلزپارٹی کی طرف ہو گیا ہے۔ بےنظیر بھٹو کے دور میں مولانا فضل الرحمان خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ عمران خان کےخلاف پی ڈی ایم تحریک میں بنیادی کردار مولانا فضل الرحمان کا تھا اور اس وجہ سے صدارت کے عہدے کے امیدوار تھے، جس کا اظہار انہوں نے نواز شریف سے بھی کیا تھا، لیکن بعد میں جو سیٹ اپ بنا اس میں مولانا فضل الرحمان کو ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکا تھا۔
سلمان غنی نے مزید کہا حکومت کے پاس سینیٹ میں 61 ووٹ ہیں اور ترمیم کی منظوری کے لئے 64 ووٹ درکار ہیں، مولانا فضل الرحمان پاس سینیٹ میں 4 مضبوط ووٹ ہیں۔ ترمیم کی منظوری کے لئے حکومت نے 4 ووٹوں کا بندوبست تو کرنا ہے۔

WhatsApp
Get Alert