ہنگول نیشنل پارک میں نایاب فارسی تیندوے کی موجودگی کے شواہد مل گئے، آئی بیکس کا شکار کرتے دیکھا گیا

گوادر ( ڈیلی قدرت )بلوچستان کے ضلع گوادر اور لسبیلہ میں پھیلے 6 لاکھ 10 ہزار ہیکٹر رقبے پر محیط ہنگول نیشنل پارک میں فارسی تیندوے کی موجودگی کے واضح ثبوت ملے ہیں، جس نے وائلڈ لائف کمیونٹی اور ماحولیاتی ماہرین کو پرجوش کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق 2 دسمبر 2025 کو کمیونٹی گیم واچر ایوب نے تیندوے کو ایک نر آئی بیکس کا شکار کرتے ہوئے دیکھا۔ سب ڈویژنل آفیسر امان اللہ نے بتایا کہ تیندوے کے شکار کے پاس واضح ٹریکس بھی دیکھے گئے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ایک صحت مند اور فعال شکاری ہے۔فارسی تیندوے کو بین الاقوامی سطح پر خطرے سے دوچار (Endangered) قرار دیا گیا ہے اور اس کی موجودگی ہنگول نیشنل پارک کے ماحولیاتی توازن کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ وائلڈ لائف ایکسپرٹ محمود سگار نے کہا کہ تیندوے کا دوبارہ فعال ہونا نیشنل پارک کے فوڈ چین میں ٹاپ پریڈیٹر کی واپسی اور ماحولیاتی نظام کی صحت مندی کی نشانی ہے۔محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے ہنگول میں تیندوے اور اس کے شکار کے تحفظ کے لیے گشت اور کمیونٹی کی شمولیت مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ غیر قانونی شکار اور رہائش گاہوں کی تباہی سے لاحق خطرات ابھی بھی موجود ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔
