ایس ایچ او خاران کے قاتل 3 دہشتگرد گرفتار، رواں سال 707 دہشتگرد ہلاک و گرفتار کئے گئے ہیں : حمزہ شفقات/ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

کوئٹہ ( ڈیلی قدرت ) ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ایس ایچ او سٹی خاران قاسم بلوچ کے قتل میں ملوث کالعدم بی ایل ایف کے 3 اہم دہشت گردوں (زین مرزا، عامر شاہ اور رحمت اللہ) کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کا منصوبہ ایس ایچ او کو اغوا کر کے ریاست مخالف پروپیگنڈا ویڈیو بنانا تھا تاہم مزاحمت پر انہیں شہید کر دیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں، 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 707 دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا گیا، جبکہ اس دوران سکیورٹی فورسز کے 202 جوان شہید اور 280 عام شہری جاں بحق ہوئے۔ حمزہ شفقات نے بتایا کہ تھانوں کی حفاظت کیلئے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی بھی خریدی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک بیٹھے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے ’ریڈ نوٹس سیل‘ قائم کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ اکتوبر میں شہید ہونے والے ایس ایچ او سٹی خاران قاسم بلوچ کے قتل میں ملوث 3 دہشت گردوں (زین مرزا، عامر شاہ اور رحمت اللہ) کو جوائنٹ آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل ایف سے ہے اور یہ افغانستان میں ٹریننگ حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ ایس ایچ او کو قتل کرنا نہیں بلکہ اغوا کرنا تھا تاکہ ان پر تشدد کرکے اسسٹنٹ کمشنر کی طرح پروپیگنڈا ویڈیوز بنائی جا سکیں اور ریاست کے خلاف بیانیہ بنایا جا سکے، تاہم ایس ایچ او کی جانب سے شدید مزاحمت پر دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے انہیں شہید کر دیا۔ ملزمان سے پولیس کی سرکاری ایس ایم جیز اور واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات نے سالانہ کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ 2025 میں اب تک 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے ہیں جن میں پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور حساس ادارے شامل تھے۔ ان کارروائیوں میں 707 دہشت گرد مارے گئے یا پکڑے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں سکیورٹی فورسز کے 202 جوان شہید ہوئے جبکہ 280 کے قریب عام شہری بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔حمزہ شفقات نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تھانوں کی حفاظت (Fortification) کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے ہیں اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی بھی خریدی جا رہی ہے۔ سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ٹریننگ کا عمل 67 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے 11 اگست کو بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باقاعدہ طور پر ’فارن ٹیررسٹ آرگنائزیشن‘ (FTO) ڈکلیئر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ایک ’ریڈ نوٹس سیل‘ قائم کیا گیا ہے جو انٹرپول کے ذریعے بیرون ملک بیٹھ کر دہشت گردی آپریٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔حکام نے عزم ظاہر کیا کہ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
