رکشوں کی بندش سینکڑوں خاندانوں کا معاشی قتل ہے، روزگار کے مواقع ختم کیے جا رہے ہیں: پشتونخوا میپ

حکومت عوام دشمنی پر اتر آئی ہے، چھاپوں اور ضبطیوں سے تاجروں کا دیوالیہ نکل گیا: صوبائی پریس ریلیز


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر واطراف میں زرنج رکشوں کی بندش کے باعث نہ صرف شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ سینکڑوں لوگوں کی روزگار متاثر ہورہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ اور حکومت کا کوئی بھی اقدام شہریوں کو ریلیف دینا، بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے نہیں رہا بلکہ ہر اقدام عوام دشمنی اور معاشی قتل کے مترادف ہی رہا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ بدترین مہنگائی، سخت ترین بیروزگاری کے باعث پہلے ہی عوام ذہنی کوفت کا شکارہیں۔ روزگار کے مواقع میسر نہیں اور جو مواقع حاصل ہیں انہیں بتدریج فارم47کی حکومت اور انتظامیہ ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ باڈر ٹریڈکی بندش نے پہلے ہی کوئٹہ شہر کی تجارت، کاروبار کو ختم کردیا۔ شہر میں شورومز پر چھاپے جاری ہے، کسٹم، ایکسائز،سیکورٹی فورسز کے ہمراہ نہ صرف شورومز پر چھاپے مار رہے ہیں بلکہ گوداموں، مارکیٹوں، دکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور تاجروں، دکانداروں کے کرورڑوں روپے کے مال کو ضبط کرکے انہیں معاشی نقصانات سے دوچار کیا جارہا ہے۔ سرحدی علاقوں سے کلیئرنس کے بعد اندرون شہر میں مال ضبط کرنا، چھاپے مارنا خود غیر قانونی عمل ہے۔ اور یہ سب کچھ اپنی پاکٹ منی، بنک بیلنس، جائیداداروں میں اضافہ کاسبب بن رہی ہے جبکہ ان ناروا اور عوام دشمن اقدامات کے باعث ہزاروں گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں اور سینکڑوں خاندان نان شبینہ کا محتاج بن گئے ہیں جس کی ذمہ داری موجود مسلط حکومت ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے بڑی فورڈ گاڑیوں پر پہلے ہی بندش اور ٹریفک کی روانی میں خلل کے باعث بندش عائد کی گئی۔ چھوٹی سوزکی گاڑیاں، پک اپ گاڑیاں اگر سامان سے لدے ہوں یا خالی ہوں انہیں ہر چوراہے پر روک کر ٹریفک پولیس کی جانب سے بھاری برکم چالان دیا جاتا ہے اور اب تو زرنج رکشوں کو بھی چالان جاری تھا۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ زرنج رکشوں کو قوانین کے مطابق رجسٹرڈ کرکے اس سے منسلک سینکڑوں نوجوانوں ان کے خاندانوں کی روزی روٹی کا سلسلہ بحال کیا جائے اور بندش سے فوری پابندی ہٹائی جائے جبکہ کوئٹہ شہر میں مجموعی طور پر تباہ شدہ معاشی صورتحال کو بحال کرنے کے لیے عوام دوست، تاجر دوست پالیسیوں اور باڈر ٹریڈ کی فوری بحالی کی ضرورت ہے۔

WhatsApp
Get Alert