دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، یہ اسلام کے قلعے ہیں: مولانا عبدالواسع
جے یو آئی مغربی آقاؤں کی سازشوں کے آگے ڈھال ہے، مدارس نے فرنگی سامراج کو شکست دی: دستار بندی کانفرنس سے خطاب

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ ) امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ لورالائی کے سالانہ دستارِ فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کی حرمت، آزادی اور نظریاتی خودمختاری کی جدوجہد میں جمعیت علماء اسلام کا کردار محض ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر دینی تحریک کا ہے۔ جمعیت علماء اسلام قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ایوانِ اقتدار میں ہو یا میدانِ عمل میں، ہر دور میں دینی مدارس کے تقدس اور حریت کی جنگ صفِ اوّل میں لڑتی آ رہی ہے اور اسے اپنا دینی فریضہ سمجھتی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ سیاسی مصلحتوں، اقتدار کی قربت اور وقتی مفادات کو ٹھکرا کر دین کے ان قلعوں کو مقدم رکھا۔ مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر قدغنیں ہوں، نصاب میں مداخلت کی سازشیں ہوں یا مغربی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے کبھی ایک عنوان اور کبھی دوسرے نام سے مدارس کے وجود کو مشکوک بنانے کی کوششیں قائد جمعیت نے ہر محاذ پر ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور پارلیمان کے اندر اور باہر دینی مدارس کے دفاع میں فیصلہ کن اور جرات مندانہ موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ یہ جدوجہد ایمان، عقیدہ اور اسلامی تشخص کے تحفظ کی جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام آج بھی مغربی دباؤ، عالمی ایجنڈوں اور داخلی سازشوں کے مقابلے میں دینی مدارس کے لیے ایک مضبوط ڈھال بنی ہوئی ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ دینی مدارس کی یہ تاریخی جدوجہد دراصل اس فکری جنگ کا تسلسل ہے جب فرنگی استعمار یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس نے اس خطے کی آزادی کی تحریک کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا ہے۔ سیاسی غلبے کے بعد اس نے ثقافتی، نظریاتی اور تعلیمی یلغار کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان، عقیدہ اور تہذیب کو نشانہ بنایا۔ ایسے نازک وقت میں اکابرینِ امت نے اجتماعی شعور کے ساتھ دینی خودمختار تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی۔اسی مقصد کے تحت دیوبند میں دارالعلوم، سہارنپور میں مظاہر العلوم اور مراد آباد میں مدرسہ شاہی قائم ہوئے، اور پھر یہ قافلہ پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ ان مدارس کے لیے یہ اصول طے پایا کہ وہ سرکاری یا نیم سرکاری امداد سے بے نیاز ہو کر عام مسلمانوں کے تعاون سے چلیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ انتہائی سادگی اور قناعت کے ساتھ ان اداروں نے امتِ مسلمہ کی جو خدمات انجام دیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مدارس کے اساتذہ اور منتظمین ایسے مردانِ باصفا تھے جو اگر دنیاوی آسائشوں کا راستہ اختیار کرتے تو عزت اور سہولتیں خود ان کے دروازے پر حاضر ہوتیں، مگر انہوں نے مسلمان کو مسلمان باقی رکھنے کے عظیم مقصد کے لیے ہر طرح کی محرومی اور طعن و تشنیع کو قبول کیا۔ یہی وہ نظامِ تعلیم تھا جس نے فرنگی سازشوں کو ناکام بنایا اور بالآخر استعمار کو اس خطے سے رخصت ہونے پر مجبور کیا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ لارڈ میکالے کا تعلیمی نظام مسلمانوں کو ذہنی غلام بنانے کے لیے تھا، مگر دینی مدارس اس کے مقابلے میں ایک مستحکم اور ناقابلِ شکست متوازی نظام کے طور پر سامنے آئے۔ جب جدید عقل پرستی، انکارِ ختمِ نبوت اور انکارِ حدیث جیسے فتنوں نے سر اٹھایا تو یہی مدارس پوری قوت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور ملتِ اسلامیہ کے عقائد کا دفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کے علوم، عربی زبان اور دینی لٹریچر کو محفوظ رکھنا، انہیں نسل در نسل منتقل کرنا اور مسلم ثقافت کو مغربی یلغار کے باوجود زندہ رکھنا دینی مدارس ہی کا امتیاز ہے۔ اگر آج اس خطے میں اسلام کے ساتھ وابستگی کے مظاہر پوری دنیا کو چونکا رہے ہیں تو اس کا حقیقی سبب یہی دینی مدارس ہیں۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تصویر کے دوسرے رخ پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ فروعی اور جزوی مسائل کو اصل بنیاد بنا لینے سے فکر و اعتقاد کے بنیادی سوالات پسِ پشت چلے گئے ہیں۔ نفاذِ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رجالِ کار کا فقدان ہے۔ اگر میکالے کے نظامِ تعلیم سے یہ توقع عبث ہے ہہی عظیم کام مدارس دینیہ کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام دینی مدارس کو مستقبلِ اسلام کا مضبوط ستون سمجھتی ہے، اور ان کی آزادی، خودمختاری اور فکری بالیدگی کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینا اپنا دینی، ملی اور تاریخی فرض سمجھتی ہے۔
