حکومت نے ملازمین کو دھوکہ دیا، گھروں پر چھاپے اور گرفتاریاں ناقابل قبول ہیں، وزیراعلیٰ کو خط لکھ دیا ہے: یونس زیری

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اپوزیشن لیڈر میر یونس زیری نے گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپوں، گرفتاریوں اور سرکاری ملازمین کی معطلی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے طے شدہ معاہدے پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین ریاستی مشینری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر مہنگائی کے موجودہ کمر توڑ دور میں ملازمین کے لیے سفید پوشی کا بھرم رکھنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ میر رحمت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں 100 فیصد بڑھائی جاتیں مگر اس کے برعکس حکومت نے نہ صرف ڈی آر اے کے معاہدے پر عملدرآمد سے گریز کیا بلکہ مذاکرات کے نام پر ملازمین کو دھوکہ دے کر احتجاج ختم کرایا اور اب دوبارہ انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بدامنی، معاشی بدحالی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے ایسے میں سرکاری ملازمین کا دوبارہ احتجاج پر آنا کسی طور نیک شگون نہیں جمعیت علماء اسلام مطالبہ کرتی ہے کہ گرفتار ملازمین کو رہا کیا جائے، ان پر قائم مقدمات واپس لیے جائیں، معطلی ختم کی جائے اور ڈی آر اے سمیت تمام مطالبات پر کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے انہوں نے کہا کہ ملازمین کی اس جائز اور پرامن جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ہر فورم پر ان کے حق میں آواز بلند کرتی رہے گی انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو خط بھی لکھ چکا ہے
