بلوچستان بھر میں ملازمین کا احتجاج، پہیہ جام ہڑتال، لسبیلہ میں 40 اساتذہ گرفتار، 15 جنوری کو مکمل لاک ڈاؤن کی دھمکی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان کے تمام اضلاع بشمول کوئٹہ، پشین، سبی، نصیر آباد، ژوب، خضدار، قلعہ سیف اللہ، پنجگور، لسبیلہ، گوادر، تربت، مستونگ، جھل مگسی، چاغی، دالبندین، ڈھاڈر، گنداخہ، پنجگور، کچلاک، خاران، ہرنائی، آواران، خضدار، کیچ، پسنی، قلعہ عبداللہ، سوراب، سبی، بولان، پنجگور، پنجگور، سبی، پنجگور، پشین، مستونگ، قلعہ سیف اللہ میں گرینڈ الائنس کے ملازمین نے اپنے 12 نکاتی مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کیے۔ مظاہرین نے قومی شاہراہیں اور اہم سڑکیں بلاک کر کے آمدورفت متاثر کی اور صوبے بھر میں پہیہ جام ہڑتالیں کیں۔پنجگور میں بلوچستان گرینڈ الائنس کی مرکزی کال پر سی پیک روڈ، چائنا چوک پر دھرنا دیا گیا، جس میں آل پارٹیز، نیشنل پارٹی، حق دو تحریک، بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے آرگنائزر عبدالجبار بلوچ، ظہور احمد، آل پارٹیز کے چیئرمین علاالدین ایڈوکیٹ، حق دو تحریک کے چیئرمین ملا فرہاد اور نیشنل پارٹی کے کامریڈ مجیب الرحمن بلوچ نے کہا کہ ملازمین کے گھروں پر چھاپے، اہل خانہ کو ہراساں کرنا اور گرفتاریوں کا سلسلہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دبا، رکاوٹیں اور گرفتاریاں ملازمین کو اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں کر سکتیں۔قلعہ سیف اللہ میں پہیہ جام ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ پولیس نے واضح کیا کہ ملازمین کو کسی صورت احتجاج اور شاہراہوں کی بندش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کی گئی اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔لسبیلہ اور اوتھل میں بھی ملازمین نے احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس نے چیئرمین عبدالواحد سومرو سمیت 40 سے زائد عہدیداران اور اساتذہ کو گرفتار کرکے تھانہ منتقل کر دیا۔ اس دوران صحافیوں کو احتجاج کی کوریج سے روک دیا گیا، جسے عوامی و سماجی حلقوں نے آزادی صحافت پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے ملازمین کے جائز مطالبات کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنماں نے اعلان کیا ہے کہ 15 جنوری کو صوبے بھر میں مکمل لاک ڈان کر کے سرکاری مشینری کو جام کیا جائے گا، اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔ گرفتار ملازمین نے بھی کہا کہ جیل اور گرفتاریاں انہیں اپنے حقوق کے حصول سے نہیں روک سکتیں اور وہ اپنے مطالبات پر قائم رہیں گے۔
