کوئٹہ میں گرینڈ الائنس کے احتجاج پر پولیس کا لاٹھی چارج، متعدد ملازمین گرفتار، صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت کیلئے قلم چھوڑ ہڑتال اور ‘جیل بھرو تحریک’ کا اعلان


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان گرینڈ الائنس کے ملازمین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں کوئٹہ میں احتجاج کیا، جس کے دوران ریڈ زون میں کنٹینر لگا کر مرکزی راستوں کو سیل کر دیا گیا۔ مظاہرین کی ریڈ زون جانے کی کوشش کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور متعدد ملازمین کو گرفتار کر کے مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کی قیادت نے آج سے بلوچستان بھر میں تمام سرکاری دفاتر میں غیر معینہ مدت کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی دو ہفتے تک جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ صوبائی آرگنائزر قدوس کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت کی جانب سے ملازمین کی تشکیل کردہ کمیٹی کی سفارشات کو منظور نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث یہ احتجاج اور ہڑتال کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ قدوس کاکڑ نے کہا کہ کل رات سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ملازمین کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ہوٹلوں اور مقامات پر چھاپے دیے گئے، اور تمام گرفتاریاں حکومت کی جانب سے ریاستی طاقت کے استعمال کا حصہ ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اور دیگر سرکاری اہلکار بلاوجہ ملازمین پر جبر اور تشدد کر رہے ہیں۔

بلوچستان گرینڈ الائنس نے اپنے احتجاجی اقدامات کے تحت صوبے بھر میں ارگنائزنگ کمیٹیز تشکیل دے دی ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر ہر ڈسٹرکٹ میں ملازمین کی فہرست مرتب کریں گی۔ ہر ملازم اور ان کے دوست خود کو گرفتاری کے لیے پیش کریں گے تاکہ جیل بھرو تحریک کو کامیاب بنایا جا سکے۔ مزید برآں، بلوچستان بھر کے پریس کلبز کے سامنے آج احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ قدوس کاکڑ نے تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ملازمین پر ہونے والے جبر اور تشدد کا فوری نوٹس لیں اور انصاف کے لیے مداخلت کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس ظلم کو فورا بند نہ کیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ بلوچستان گرینڈ الائنس کے مطابق یہ مظاہرے اور احتجاجی اقدامات ملازمین کے حقوق اور ریاستی انصاف کے لیے جاری رہیں گے، اور تمام صوبائی و ملکی سطح پر اس جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert