کیا فہد مصطفیٰ نے واقعی وائٹننگ انجیکشن لگوائے؟ اداکار نے انڈسٹری کے “گورے پن” کے معیار اور اپنی رنگت پر خاموشی توڑ دی

کراچی (ڈیلی قدرت) پاکستان شوبز انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ، نامور پروڈیوسر اور مقبولِ عام میزبان فہد مصطفیٰ نے معاشرے اور میڈیا انڈسٹری میں جڑ پکڑنے والے “گوری رنگت” کے دقیانوسی تصورات کو پاش پاش کرتے ہوئے ایک ایسا تہلکہ خیز بیان جاری کر دیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپنی نئی بلاک بسٹر فلم ’’آگ لگے بستی میں‘‘ کی تشہیر کے دوران وسیم بادامی کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے فہد مصطفیٰ نے ان تمام افواہوں اور تنقید کا دوٹوک جواب دیا جن میں ان پر وائٹننگ انجیکشن لگوانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ اداکار نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ ان کی کامیابی کا راز گوری رنگت نہیں بلکہ برسوں کی انتھک محنت اور فنی صلاحیت ہے؛ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ “میں خود گورا نہیں ہوں، لیکن اس کے باوجود آج اس مقام پر کھڑا ہوں جہاں لوگ میری رنگت نہیں بلکہ میرے کام کو دیکھتے ہیں”۔ فہد مصطفیٰ نے شوبز انڈسٹری میں رائج حسن کے مصنوعی معیارات کو مسترد کرتے ہوئے صبا قمر، صنم سعید، احمد علی اکبر اور سجل علی جیسے بڑے ناموں کا حوالہ دیا اور ثابت کیا کہ عالمی سطح پر اب صرف ٹیلنٹ ہی پہچان کا ذریعہ ہے، نہ کہ جلد کی رنگت۔ ان کا یہ جرات مندانہ اعتراف نہ صرف ان نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گیا ہے جو رنگت کے احساسِ کمتری کا شکار ہیں، بلکہ اس نے انڈسٹری کے ان حلقوں کو بھی کرارا جواب دیا ہے جو اداکاری کے لیے صرف ظاہری خوبصورتی کو لازمی قرار دیتے تھے۔ فہد مصطفیٰ کے اس موقف نے ثابت کر دیا ہے کہ فن کی دنیا میں اصل چمک انسان کی قابلیت میں چھپی ہوتی ہے، جسے کسی انجیکشن یا کریم کی ضرورت نہیں ہوتی، اور ان کا یہ حوصلہ افزا پیغام اس وقت ملک بھر میں ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
