خالد ساسولی کا کوئٹہ پولیس کے ہاتھوں قتل، بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین احتجاج
، ایگل اسکواڈ کو گولی مارنے کا اختیار کس نے دیا؟ انکوائری جلد مکمل کر کے ملوث افراد کو سزا دی جائے گی، وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کی ایوان کو یقین دہانی

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نوشکی سے تعلق رکھنے والے نوجوان خالد ساسولی کی مبینہ طور پر ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت پر اراکین اسمبلی کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران پرنس آغا عمر احمد زئی نے واقعے پر فاتحہ خوانی کرائی اور کہا کہ نوشکی سے خون کا عطیہ کرنے کے لیے آنے والے بچے کو بے دردی سے مارا گیا، جس کی تحقیقات کے لیے فوری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ خالد ساسولی کو ایک اسکواڈ نے فائرنگ کر کے قتل کیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایگل اسکواڈ کو گولی مارنے (شوٹ کرنے) کا اختیار کس نے دیا ہے؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ مقتول بچے کی لاش پر ایگل اسکواڈ اہلکاروں کے پاؤں (جوتوں) کے نشانات موجود ہیں، اس لیے واقعے کی فوری انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔
رکن اسمبلی رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ایگل اسکواڈ کے اہلکار پولیس کے محکمے کو بدنام کر رہے ہیں، حالانکہ پولیس کا بنیادی کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ایک اور اپوزیشن رکن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں اب خون کا عطیہ دینا بھی گناہ بن گیا ہے۔ میر اسد اللہ بلوچ نے زور دیا کہ ہمیں اپنی کارکردگی سے عوام کو مطمئن کرنا چاہیے۔
پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہزارہ ٹاؤن اور خالد ساسولی واقعات کی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بعد ازاں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے بھی ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے خالد ساسولی کے واقعے کو انتہائی باعثِ افسوس قرار دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے کی انکوائری جلد مکمل کر لی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے، اگرچہ ماضی میں ایگل اسکواڈ کا کردار مثبت رہا ہے، لیکن اگر کوئی بھی اہلکار قانون ہاتھ میں لے کر غلط کام کرے گا تو اسے ہر صورت سزا ملے گی۔
علاوہ ازیں، اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ نے قائمہ کمیٹیوں کو تاحال دفاتر الاٹ نہ کیے جانے پر ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
