قلعہ سیف اللہ میں ژالہ باری سے کسانوں کی سال بھر کی محنت ڈوب گئی، کاش صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ بھی آفت جتنی تیزی سے متحرک ہوتیں، خوشحال خان کاکڑ


قلعہ سیف اللہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے حالیہ طوفانی بارشوں اور شدید ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں میں زمینداروں کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ضلع قلعہ سیف اللہ کا تفصیلی اور ہنگامی دورہ کیا۔ اس موقع پر پارٹی کے صوبائی مالیات سیکرٹری اور میونسپل کمیٹی قلعہ سیف اللہ کے چیئرمین سعید اکبر خان سمیت دیگر پارٹی رہنما اور مقامی ذمہ داران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دورے کے دوران انہوں نے بندات پسین زئی، بندات فتوزئی، بندات موسیٰ زئی، عبدل کاریز، پتاو، دولت زئی، غیب زئی، سیب زئی، اخترزئی، علوزئی اور علی خیل سمیت متعدد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے مختلف مقامات پر زمینداروں، کسانوں اور مقامی عمائدین سے براہِ راست ملاقاتیں کیں اور نقصانات کا موقع پر تفصیلی جائزہ لیا۔ متاثرہ زمینداروں نے وفد کو بتایا کہ حالیہ شدید ژالہ باری اور موسلا دھار بارشوں نے ان کی کھڑی فصلوں، باغات اور زرعی ڈھانچے کو بری طرح تباہ کر دیا ہے۔ خصوصاً سیب، زردالو اور دیگر پھلدار درختوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث سال بھر کی محنت ضائع ہو گئی ہے۔ مزید برآں، کئی علاقوں میں سولر سسٹمز، ٹیوب ویلز، آبپاشی کے ذرائع اور زرعی مشینری بھی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف موجودہ فصلیں بلکہ آئندہ زرعی سیزن بھی شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔ متاثرہ کسانوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر فوری امداد اور بحالی کے اقدامات نہ کیے گئے تو وہ مکمل طور پر معاشی تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر خوشحال خان کاکڑ نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ضلع قلعہ سیف اللہ کو فوری طور پر آفت زدہ علاقہ قرار دیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر ریلیف اور بحالی کے اقدامات کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فوری طور پر خصوصی سروے ٹیمیں تشکیل دے کر تمام متاثرہ علاقوں کا شفاف، جامع اور غیر جانبدارانہ سروے مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمینداروں کو اس مشکل گھڑی میں تنہا چھوڑنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور کسی بھی قسم کی سستی، غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سروے کے عمل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری، اقربا پروری یا کوتاہی کو سختی سے روکا جائے۔ خوشحال خان کاکڑ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سروے رپورٹ کی تکمیل کے فوراً بعد اسے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سمیت متعلقہ اداروں کو ارسال کیا جائے تاکہ متاثرہ زمینداروں کو بروقت اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک جامع امدادی پیکج کا اعلان کیا جائے، جس میں مالی معاونت، زرعی بحالی، بیج اور کھاد کی فراہمی، متاثرہ باغات کی بحالی اور بنیادی زرعی انفراسٹرکچر کی مرمت شامل ہو۔

WhatsApp
Get Alert