پشین میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ پر عوام کا صبر جواب دے گیا، ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کے خلاف آل پارٹیز کا احتجاجی مارچ اور دھرنا

پشین (ڈیلی قدرت کوئٹہ) ضلع پشین میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، بڑھتی ہوئی لاقانونیت اور حالیہ افسوسناک واقعات کے خلاف آل پارٹیز کے زیر اہتمام ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور وکلاء برادری نے بھرپور شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت جمعیت علماء اسلام، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، انجمن تاجران پشین اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کی۔مظاہرین نے شہر کی مرکزی شاہراہ بند خوشدل خان روڈ سے مارچ کرتے ہوئے ڈی سی کمپلیکس کے سامنے احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کرلی۔ اس موقع پر مختلف جماعتوں کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے ضلع میں بدامنی کی بڑھتی ہوئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔مظاہرے سے جمعیت علماء اسلام پشین کے ضلعی امیر اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا صاحبزادہ کمال الدین، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ضلعی صدر عمر خان ترین، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی اصغر علی ترین، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر شاہ نواز کھرل، پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ملک شوکت علی کاکڑ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عبدالمناف بادیزئی ایڈوکیٹ، ملک خلیل الرحمن کاکڑ ایڈوکیٹ، انجمن تاجران کے ضلعی صدر ملک بہادر خان ملیزئی، نصیب اللہ کلیوال اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ضلع بھر کی تمام سیاسی و سماجی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پشین کے عوام اب اپنے حقوق اور جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج پشین کا بچہ بچہ سراپا احتجاج ہے اور یہ کسی ایک جماعت یا گروہ کی نہیں بلکہ پورے علاقے کے وقار اور بقا کی جنگ ہے۔انہوں نے یارو واقعہ کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامی رٹ کمزور ہو چکی ہے۔ مقررین نے کہا کہ یارو میں تین افراد کی شہادت، عجوہ ہوٹل واقعہ، پشین شہر میں دو نوجوانوں کے قتل، کلیم اللہ اچکزئی کی گمشدگی اور دیگر واقعات نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، جس سے عوام میں شدید عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔مقررین نے دوسرے علاقوں سے پشین انیوالے عناصر کی جانب سے پشین میں اسلحے کی کھلے عام نمائش پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہیں بلکہ علاقے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہیں۔شہداء کے لواحقین سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی، جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔مقررین نے زور دیا کہ پشین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور قبائلی قوتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد ہی وہ واحد قوت ہے جس کے ذریعے علاقے میں دوبارہ امن قائم کیا جا سکتا ہے۔احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر آل پارٹیز اور انجمن تاجران کے وفد نے ڈپٹی کمشنر منصور احمد قاضی، ایس پی اطہر رشید اور دیگر انتظامی حکام سے مذاکرات کیے۔ ضلعی انتظامیہ نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ پشین میں امن و امان کی بہتری، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پشین کے عوام، سیاسی قیادت اور قبائلی عمائدین مل کر امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور کسی بھی صورت بدامنی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
