ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات چاہتا ہے

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات چاہتا ہے، ایران ہم سے بات چیت کرنا چاہ رہا ہے،دیکھتے ہیں ایران کس طرح کی پیش کش لاتا ہے، ایرانی پیش کش کا مقصد امریکی مطالبات کو پورا کرنا ہے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز پریس بریفنگ کے دوران ترجمان وائٹ ہاوس کیرولائن لیوٹ نے امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران نے براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی لیے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے لچک دکھائی اور سیز فائر میں توسیع کی، ان کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا۔ اسٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر کل صبح اسلام آباد جا رہے ہیں، جبکہ جے ڈی وینس ابھی امریکا میں رہ کر ہی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
ترجمان وائٹ ہاوس نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان شاندار ثالث اور دوست ثابت ہوا، امریکی وفد پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کیلئے اسلام آباد جا رہا ہے۔
امید ہے مذاکرات کے دوران بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہو گی اور ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ امریکی 2 رکنی وفد اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات میں مذاکرات کیلئے پیش رفت ہونے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد جائیں گے۔ جبکہ اسلام آباد پہنچنے سے قبل ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر مشاورت کیلئے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہورہا ہوں۔
ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے بروقت دورے پر روانہ ہورہا ہوں، دوروں کی مقصد شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ امور پر قریبی رابطہ رکھنا ہے۔اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے میں خطے کی صورتحال پر مشاورت کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک ہماری ترجیح ہیں۔ جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد کی پاکستان آمد کی اطلاع کو اہم سفارتی پیشرفت قرار دے دیا۔
میڈیا کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے رابطے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور انہیں ایرانی ہم منصب سے مذاکرات کے دوسرے دور کے بارے گفتگو سے آگاہ کیا۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے درمیان خطے کی سکیورٹی صورتحال اور کشیدگی میں اضافے کے خدشات پر بھی بات چیت ہوئی جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی بات چیت کی گئی۔
