بلوچستان حکومت کی خاموشی سے شہری حقوق پر سوالات گہرے، شہریوں کو غیر قانونی حراست کا نوٹس لیا جائے، پشتونخواملی عوامی پارٹی

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے کسی شہری کو بغیر قانونی جواز کے حراست میں لینا نہ صرف آئین اور قانون کی صریحاًخلاف ورزی ہے بلکہ ایک غیر انسانی اور قابلِ مذمت عمل بھی ہے۔توبہ اچکزئی کے رہائشیوں نعمت ولد محمود اور صاحب خان ولد حنفیاء کی اغواء نماء گرفتاری اورانہیں حبس بیجا میں رکھنے کے ناروا اقدام پر پارٹی دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ توبہ اچکزئی تحصیل دو بندی کے کرنل کی جانب سے منزہ منکزئی کلی کے رہائشیوں کو24اپریل کو اٹھایا گیااور پھر انہیں ایف سی ہیڈکوارٹر لیجایا گیا اور بعد ازاں انہیں ایف آئی کے حوالے کیا گیا۔ واقعہ کی پہلی اطلائی رپورٹ ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ کو دی گئی۔ لیکن مذکورہ بے گناہ افراد کی تاحال عدم رہائی کے باعث ان کے گھر اور اہل علاقہ میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو بغیر جرم ثابت ہوئے یا مناسب قانونی تقاضے پورے کیے بغیر حبسِ بے جا میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔آئین ہر شہری کو آزادی، وقار اور منصفانہ قانونی عمل کا حق فراہم کرتا ہے۔ جب ان اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو نہ صرف ایک فرد متاثر ہوتا ہے بلکہ پورے نظامِ انصاف کی ساکھ پر سوال اٹھتا ہے۔ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں خوف، بے چینی اور عدم اعتماد کو فروغ دیتے ہیں، جو کسی بھی مہذب ریاست کے لیے نقصان دہ ہیں۔بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین و قانون کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیں اور ہر شہری کے بنیادی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے۔بیان میں گورنر، وزیر اعلیٰ، آئی جی ایف سی، ڈائریکٹر ایف آئی اے اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی حراست اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور ذمہ داران کے خلاف شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انصاف کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔
