کلاس فور کے ملازمین دیگر اضلاع سے تعینات ہوئے ہیں انہیں دوبارہ ان کے اضلاع میں بھیجا جائیگا، بیر ون ملک ملازمتوں کے لیے نوجوانوں کو بھیجنے کے پروگرام میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں ، دھوکہ دہی کرنے والوں کو سزا دی جائیگی ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ صوبے کے جن اضلاع میں کلاس فور کے ملازمین دیگر اضلاع سے تعینات ہوئے ہیں انہیں دوبارہ ان کے اضلاع میں بھیجا جائیگا، بیر ون ملک ملازمتوں کے لیے نوجوانوں کو بھیجنے کے پروگرام میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں ، دھوکہ دہی کرنے والوں کو سزا دی جائیگی ۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گوادر سے منتخب رکن مولانا ہدایت الرحمن کے سوال کے جواب میں انکشاف ہوا کہ گوادر میں کلاس فور کی پوسٹوں پر بھی 19غیر مقامی افراد تعینات ہیں جس پر وزیراعلیٰ میر سر فراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں ایسا معاملہ دیکھنے میں آیا ہے کہ چھوٹی پوسٹوں پر دیگر اضلاع کے لوگ تعینات ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کر کے جو لوگ دوسرے اضلاع سے لگے ہیں ان کے اضلاع میں تعینات کریں گے یہ ذیادتی ہے کہ گوادر کے لوگوں کے ہوتے ہوئے دیگر اضلاع سے ڈرائیور یا دیگر آسامیوں پر لوگ تعینات کیے گئے ۔ اجلاس کے دوران نیشنل پارٹی کے رکن میر رحمت صالح بلوچ نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ محنت و افرادی قوت کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرو اینگے کہ اکتوبر 2024 ء کو چیف منسٹر یوتھ اسکو ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے فنی تربیت یافتہ ت30 ہزار نو جوانوں کو خلیجی ممالک اور یورپ کے ملکوں جرمنی ، رومانیہ اور دیگر ممالک میں روزگار کی غرض سے بھجوانا تھا۔ لیکن ایک طویل انتظار کے بعد 30 ہزار کے ہدف کے مقابلے میں بمشکل 250 نو جوانوں کو سعودی عرب بھیجا گیا جہاں انہیں کسی مستند کمپنی کی بجائے عام لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ان نو جوانوں کے والدین سخت پریشانی کے عالم میں ہیں۔ جبکہ باقی نو جوان تا حال خلیجی اور یورپی ممالک جانے کے انتظار میں ہیں۔ لہذا حکومت نے اس بابت اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ تفصیل فراہم کی جائے۔سوال کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر میر صادق عمرانی نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے 250افراد کو خلیجی ممالک بھیجا جن میں سے 37افراد واپس آگئے بقایا 100افراد مکمل مطمئن اور باعزت روزگار حاصل کر رہے ہیں 90کی شکایات آئی ہیں جن میں سے 50معمولی نوعیت کی تھیں 40کے مسائل حقیقی نوعیت کے ہیں جنہیں متعلقہ کمپنی کے ساتھ اٹھایا گیا ہے ایک ماہ میں انہیں متبادل روزگار فراہم کردیا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک میں تاحال کسی بھی نوجوان کو نہیں بھیجا جاسکا ہے جو نوجوان اپنے طور پر ویزہ حاصل کر رہے ہیں انہیں حکومت 70فیصد رقم ادا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ بی ٹیوٹا کو 800درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 300افراد کو منتخب کرلیا گیا ہے جنہیں حکومت چیک جاری کریگی ۔ اس موقع پر میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ کنسلٹنٹ کو 25سے36لاکھ روپے تک فی کس ادا کیے گئے 36لوگوں کے نام پر جعلی پیسے جاری کئے گئے 70نوجوان ڈی پورٹ ہوچکے ہیں ۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے روز اول سے کہا کہ ہم نوجوانوں کو ہنر سیکھا کر انہیں بیرون ملک روزگارکے لیے بھیجیں گے یہ نوجوان وائٹ کالر جاب نہیں بلکہ مزدوری کی غرض سے گئے ہیں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں قوانین لا گو ہوتے ہیں جس کے تحت انہیں رکھا گیا ہے کچھ نوجوانو ں کوشاید اس بات کا اندازہ نہیں ہوا کچھ نوجوان گھر سے دوری ، گرمی کی وجہ سے پریشان ہوگئے تاہم جن لوگوں کے حقیقی مسائل ہیں انہیں حل کیا جائیگا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکل ڈوپلمنٹ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھیجنے کے عمل میں کوتاہیوں کی نشاندہی ہوئی جس پر ڈی جی کو نکالا گیا اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں جنہوں نے ٹینڈر حاصل کرنے کے بعد دھوکہ دہی کی انہیں سزا ملے گی پنجاب حکومت نے بھی ہمارے ماڈل پر عملدآمد کیا ہے اب ہم اوپن مارکیٹ پالیسی پر جارہے ہیں کمپنیاں آئیں نوجوانوں کو ہنر سیکھانے کے بعد روزگار دیں ہم انہیں پیسے جاری کریں گے ۔وزیراعلیٰ کے جواب کے بعد توجہ دلائو نوٹس نمٹا دیا گیا ۔ اجلاس میں رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ معدنیات و معدنی ترقی کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کرو اینگے کہ سیندک پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے مقامی علاقوں کی تعلیم صحت اور بنیادی سہولیات کی بابت کتنی رقم مختص کی گئی ہے اور اس میں سے اب تک کتنی رقم خرچ کی گئی ہے۔ نیز سیندک پروجیکٹ کا موجودہ معاہدے کی مدت کتنی ہے اور اس معاہدے میں حکومت بلوچستان کے مفادات کو کس حدتک تحفظ حاصل ہے۔ تفصیل فراہم کی جائے۔ توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں صوبائی وزیر معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے ایوان کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک سی ایس آر کی مد میں 85کروڑ روپے سے زائد کے رقم خرچ ہوئی ہے اسی طرح صوبے کو رائلٹی بھی ملتی ہے ۔ بعدازاں توجہ دلائونوٹس نمٹا دیا گیا ۔
