بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر طویل تقاریر اور قواعد کی خلاف ورزی پر وزیراعلیٰ اکتا گئے اسپیکر سے ایوان کو قواعد کے مطابق چلانے کی تجویز دے دی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر طویل تقاریر اور قواعد کی خلاف ورزی پر وزیراعلیٰ اکتا گئے اسپیکر سے ایوان کو قواعد کے مطابق چلانے کی تجویز دے دی ۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وفقہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی مولانا نور اللہ کی جانب سے طویل تقریر کرنے پر وزیراعلیٰ اکتا گئے ۔انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے لیے تما م ارکان اسمبلی قابل احترام ہیں وفقہ سوالات صرف ایک گھنٹے کا ہوتا ہے جس میں سوالات اور جوابات دئیے جاتے ہیں قواعد کے مطابق ہر سوال کے جواب میں تین ضمنی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اسمبلی کے لیے وقت نکال کر آتے ہیں اگر کسی رکن کا مسئلہ ہے تو وہ تحریک التواء لائے اور اس اہم نوعیت کے مسئلے پر بحث کریں ۔انہوں نے کہاکہ قواعد کے مطابق توجہ دلائو نوٹس میں بھی صرف توجہ دلا کر جواب سنا جاتا ہے اس میں کوئی ضمنی سوال نہیں ہوتا اگر مولانا نور اللہ چاہیں تو میں صوبائی وزیر معدنیات ، سیکرٹری معدنیات کو ان کے پاس بھیج دونگا وہ ان سے طویل بحث کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر سے گزارش ہے کہ وہ ایوان کو قواعد کے مطابق چلائیں جس پر اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی میں روایات اور قواعد کو ساتھ ساتھ چلانا چاہتا ہوں ۔انہوں نے رولنگ دی کہ پیر کے اجلاس میں معدنیات سے متعلق ایک گھنٹہ مختص کریں گے جس پر بحث کرلی جائے تاہم مولانا نور اللہ نہ مانے اور انہوں نے بعد میں بھی اپنی تقریر جاری رکھی ۔
