مستونگ ہسپتال میں دلخراش منظر مریض کو گدھے پر لانے کا واقعہ، حکومتی دعوؤں پر سوال اٹھ گئے

مستونگ(قدرت روزنامہ)ضلع مستونگ کے ایک سرکاری ہسپتال میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ایک غریب خاتون اپنے بیمار شوہر کو گدھے پر لاکر علاج کے لیے ہسپتال لانے پر مجبور ہوئی۔
یہ منظر نہ صرف انسانی ہمدردی کو جھنجھوڑ دینے والا تھا بلکہ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں صحت کے نظام کی حقیقی صور تحال کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق مریض کی حالت تشویشناک تھی، مگر علاقے میں ایمبولینس یا کسی مناسب ٹرانسپورٹ کی سہولت موجود نہ ہونے کے باعث خاندان کو یہ انتہائی تکلیف دہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔
عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہر دور میں ترقیاتی منصوبوں اور
بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں آج بھی صحت کے مراکز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، ڈاکٹرز اور ادویات کی کمی کے ساتھ ساتھ ایمر جنسی ٹرانسپورٹ کا بھی کوئی موثر نظام موجود نہیں۔
مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف اعلانات اور وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ دیہی آبادی کو بھی شہری علاقوں جیسی بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اربوں روپے کے ترقیاتی دعووں کے باوجود آخر عام آدمی کو بنیادی علاج اور سہولت کیوں نصیب نہیں ہو رہی۔
