معاہدے تک ایران پر دباؤ برقرار رہے گا، ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی بحالی پر غور کررہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ابھی تک ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی مکمل بحالی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے اس منصوبے کی وسیع پیمانے پر بحالی پر غور کررہا ہوں۔ یقین ہے کہ ایران ہتھیار ڈال دے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائےگا۔
امریکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیاکہ اب ’پروجیکٹ فریڈم‘ صرف آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے ساتھ سیکیورٹی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہاکہ ایران یقینی طور پر ہتھیار ڈال دے گا، اور معاہدے پر آمادہ ہو جائے گا تاہم اس وقت تک اس پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکرات کار چاہتے ہیں کہ افزودہ یورینیم کو نکالنے کے لیے ہم ان کی مدد کریں، کیونکہ ان کے پاس اسے سنبھالنے کی مکمل تکنیکی صلاحیت موجود نہیں۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’احمقانہ اور ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی معاہدہ انتہائی کمزور حالت میں ہے اور زندگی کے آخری مرحلے پر ہے، جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے صورتحال کی وضاحت کے لیے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر بتائے کہ کسی مریض کے زندہ رہنے کے امکانات نہایت کم رہ گئے ہوں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی ایک انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس میں کسی بھی وقت تبدیلی ممکن ہے۔
انہوں نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کی واضح ضمانت موجود نہیں، اسی وجہ سے یہ منصوبہ قابلِ قبول نہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اسی غیر یقینی صورتحال کے باعث جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں اور معاملہ اب بھی کشیدہ حالت میں ہے۔
واضح رہے کہ قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی پیش کردہ تجویز پر دیے گئے جواب کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے امریکی منصوبے کے جواب میں ایک متبادل تجویز پیش کی ہے، جس میں جنگی نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط شامل ہے۔
گزشتہ روز انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران 47 سال سے دنیا کے ساتھ کھیل کھیلتا رہا، لیکن اب وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔

WhatsApp
Get Alert