صحافیوں کی برطرفیاں، ڈینگی بحران، اسپتالوں کی بدحالی اور شاہراہوں کی ناقص تعمیر پر بلوچستان اسمبلی میں سخت سوالات ‘ حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے خطابات


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ )بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے آغاز میں وقفہ سوالات کے دوران متعلقہ محکموں کی جانب سے جوابات دیے گئے، تاہم ایوان کی توجہ سب سے زیادہ صحافیوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور میڈیا ہاسز سے ملازمین کی زبردستی برطرفیوں پر مرکوز رہی۔ رکن اسمبلی فرح عظیم شاہ اور رحمت صالح بلوچ نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی قومی میڈیا میں نظر انداز ہے، اب یہاں بیورو دفاتر بند کرنا ناقابل برداشت ہے۔ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات سے بات کریں گے اور میڈیا ورکرز کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔اجلاس میں خواتین کی صحت و صفائی سے متعلق ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں سینیٹری نیپکنز اور متعلقہ خام مال پر جی ایس ٹی اور اضافی سیلز ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان کی 89 فیصد خواتین حفظان صحت کی بنیادی مصنوعات تک رسائی سے محروم ہیں۔ اسی طرح مولانا ہدایت الرحمان کی جانب سے اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ مکران ڈویژن میں ڈینگی کے 2000 سے زائد کیسز سامنے آنے پر رحمت صالح بلوچ نے توجہ دلا نوٹس پیش کیا، جبکہ میر زابد علی ریکی نے دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے لواحقین کی تعیناتی میں تاخیر کا مسئلہ اٹھایا، جس پر اسپیکر نے بھرتیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ایوان میں پشین کے ہسپتالوں کی خراب صورتحال اور آپریشن تھیٹروں کی بندش پر سید ظفر آغا نے شدید احتجاج کیا، جبکہ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کوئٹہ کراچی شاہراہ کی ناقص تعمیر پر این ایچ اے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ نئی سڑک ایک ہفتے میں ہی ٹوٹ گئی ہے، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے این ایچ اے حکام کو ایوان میں طلب کرنے کی ہدایت جاری کی۔ اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال پر ظہور بلیدی اور میر زابد ریکی نے مختلف آرا کا اظہار کیا۔ آخر میں کورم کی نشاندہی پر اراکین کی تعداد پوری نہ ہونے کے باعث اسپیکر نے اجلاس 14 مئی تک ملتوی کر دیا۔

WhatsApp
Get Alert