میرا بھائی تو چلا گیا کسی اور کا بھائی دہشت گردی کا شکار نہ ہو

تحریر:نقیب اللہ تارن
“میرا بھائی تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن میں نہیں چاہتا کہ دوسروں کے بچے بھی میرے بھائی کی طرح بے دردی سے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھیں۔”
یہ الفاظ سانحہ مانگی میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے بھائی محمد اشرف کے ہیں، جو گزشتہ ایک ہفتے سے کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر جاری دھرنے میں شریک ہیں۔ محمد اشرف کا بھائی بھی ان پولیس اہلکاروں میں شامل تھا جو مانگی ڈیم کے فیز تھری میں دن بھر شدت پسندوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے، تاہم گولہ بارود ختم ہونے کے بعد شدت پسندوں کے نرغے میں آ گئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔
محمد اشرف کوئٹہ کے دھرنے سے قبل خانوزئی کراس پر ہونے والے احتجاج میں بھی شریک تھے، جو حکومت کی جانب سے مغوی اہلکاروں کی بازیابی کی یقین دہانی کے بعد ختم کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے بھائی سے آخری بار بات ہوئی تو اس نے کہا، “میں مانگی فیز تھری میں پھنس چکا ہوں، نہ آگے جا سکتا ہوں اور نہ ہی پیچھے۔”

مانگی کہاں واقع ہے
بلوچستان کے شمال مشرق میں واقع ضلع زیارت، جو کوئٹہ سے تقریباً 130 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، قیامِ پاکستان سے لے کر 2010 کی دہائی تک ملک کے پرامن ترین اضلاع میں شمار ہوتا تھا۔ پورے ملک میں مثال دی جاتی تھی کہ سب سے کم قتل کے مقدمات (دفعہ 302) کس ضلع میں درج ہوتے ہیں، تو جواب ہوتا تھا: زیارت۔ تاہم اب یہی ضلع بھی بلوچستان کے حساس اضلاع میں شامل ہو چکا ہے۔
مانگی، زیارت شہر سے کوئٹہ کی جانب تقریباً 60 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں بلوچستان کے بڑے آبی منصوبوں میں سے ایک مانگی ڈیم زیر تعمیر ہے، جس کا مقصد کوئٹہ شہر کو پانی کی فراہمی ہے۔ اس منصوبے پر گزشتہ کئی سالوں سے کام جاری ہے۔ اس سے قبل بھی مانگی میں لیویز اہلکاروں کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا، جس میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے تھے۔رواں سال ماہ جون میں چار افراد کو اغواء کیا گیا تھا جن میں ایک کو قتل کیا گیا باقی تین بازیاب ہوئے۔

6 جولائی کو مانگی میں کیا ہوا
6 جولائی کو مانگی ڈیم کے فیز تھری میں جاری منصوبے کی سکیورٹی پر بلوچستان پولیس کے ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں تقریباً 35 اہلکار تعینات تھے۔ صبح تقریباً 11 بجے ملحقہ پہاڑی علاقوں سے شدت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ کر دیا۔ پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کی اور دن بھر فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
اس حملے میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 18 اہلکاروں کو شدت پسند اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ دو روز بعد ان تمام مغوی اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں بعد ازاں سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
سانحہ مانگی میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس نے آخری دم تک بہادری سے مقابلہ کیا، مگر اہلکاروں کے پاس جدید اسلحہ اور وافر گولہ بارود موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق چاروں اطراف سے حملہ آور شدت پسندوں کا مقابلہ محدود وسائل کے ساتھ ممکن نہ تھا۔
لواحقین کا مزید کہنا ہے کہ پولیس اہلکار مسلسل انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کرتے رہے، مگر انہیں بروقت امداد نہ مل سکی۔ تاہم حکومتی رپورٹ میں ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

حکومتی رپورٹ کیا کہتی ہے
حکومت کی جانب سے جاری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے حملے سے قبل ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس چوکی پر اضافی نفری اور بہتر اسلحہ فراہم کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 6 جولائی کی صبح تقریباً 35 اہلکار پوسٹ پر تعینات تھے جبکہ قریب ترین ایف سی پوسٹ تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صبح تقریباً 11 بجے دور دراز پہاڑی علاقے سے وقفے وقفے سے فائرنگ شروع ہوئی، جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیڈکوارٹرز اور ایف سی کو دے دی گئی۔ اس کے بعد 35 اہلکاروں پر مشتمل اضافی نفری روانہ کی گئی جبکہ فضائی نگرانی کے لیے مسلح ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیا گیا، جس نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک علاقے کی نگرانی کی۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں نے پولیس کا گولہ بارود ختم کرانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ شام تک بیشتر گولہ بارود استعمال ہو چکا تھا، تاہم اہلکار اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے۔ جب پولیس کی کمک پوسٹ کے قریب پہنچی تو دہشت گردوں نے اس پر بھی شدید فائرنگ کی، جس سے پیش قدمی سست ہو گئی۔ بعد ازاں ایف سی نے ڈرونز اور مارٹر فائر کے ذریعے کارروائی کی، جس کے بعد پولیس اور ایف سی نے مشترکہ پیش قدمی کی۔
رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 9 پولیس اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوئے۔ گولہ بارود ختم ہونے کے بعد ڈی ایس پی سمیت باقی اہلکار دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروپ محفوظ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا گروپ، جس میں 18 اہلکار شامل تھے، رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے نرغے میں آ کر یرغمال بن گیا۔ رپورٹ میں دشوار گزار جغرافیے، بلند پہاڑوں، گہری دراڑوں اور پتھریلے راستوں کو کارروائی میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

دھرنے کے مطالبات کیا ہیں
سانحہ مانگی کے خلاف کوئٹہ کے کوئلہ پھاٹک پر گزشتہ ایک ہفتے سے جاری دھرنے میں اپوزیشن جماعتیں، قبائلی عمائدین، مختلف مکاتبِ فکر کے افراد اور شہداء کے لواحقین شریک ہیں۔ دھرنے کے منتظمین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ متعدد مذاکراتی نشستوں کے باوجود حکومت اور دھرنا کمیٹی کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ شہداء کی تدفین عمل میں لائی جائے، جبکہ لواحقین اور دھرنے کے شرکاء کا مؤقف ہے کہ پہلے ان کے مطالبات تسلیم کیے جائیں، اس کے بعد ہی میتیں سپردِ خاک کی جائیں گی۔
حکومت نے شہداء کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ 11 لاکھ روپے مالی امداد، خاندانوں کی مکمل کفالت اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب شہداء کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہیں معاوضے سے زیادہ واقعے کی شفاف جوڈیشل انکوائری درکار ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ایک اور شہید پولیس اہلکار محمد آصف کے بھائی کا کہنا ہے کہ “میری والدہ اب تک میرے بھائی کی شہادت سے بے خبر ہیں۔ وہ روز فون کرکے کہتی ہیں کہ مجھے اپنے بیٹے سے بات کراؤ، وہ فون کیوں نہیں اٹھا رہا؟ میں انہیں کیسے بتاؤں کہ ان کا بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔”
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اس سانحے کو ہر فورم پر اٹھایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسا کرب نہ سہنا پڑے۔

WhatsApp
Get Alert