کوئٹہ، زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلا گیا، ماہرین نے شدید آبی بحران اور ایمرجنسی سے خبردار کر دیا

گرمیوں میں پانی کی سطح 8 سے 10 فٹ تک مزید گر گئی، حکومت اور وزیراعلی بلوچستان سے فوری ہنگامی اقدامات کا مطالبہ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح تشویشناک حد تک گر چکی ہے، جبکہ صرف رواں گرمیوں کے موسم میں پانی کی سطح 8 سے 10 فٹ تک مزید نیچے چلی گئی ہے، جس کے باعث کوئٹہ شہر میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند برسوں میں کوئٹہ کو سنگین آبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہو سکتے ہیں ماہرین کے مطابق کوئٹہ کی آبادی میں مسلسل اضافے، غیر قانونی ٹیوب ویلز، بے دریغ بورنگ، زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال، بارشوں میں نمایاں کمی، نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی عدم تعمیر، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں کی کمی اور ری چارجنگ کے مثر نظام نہ ہونے کے باعث زیرِ زمین آبی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قدرتی طور پر جتنا پانی زمین میں واپس جانا چاہیے، اس سے کہیں زیادہ مقدار میں پانی نکالا جا رہا ہے، جس کے باعث ہر سال زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔
ماہرین نے کہا کہ گرمیوں کے دوران پانی کی طلب کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جبکہ اسی عرصے میں نجی بورنگ مالکان اور ٹینکر مافیا ہزاروں گیلن پانی روزانہ نکال کر فروخت کرتے ہیں۔ اس بے قابو عمل کے نتیجے میں صرف چند ماہ میں زیرِ زمین پانی کی سطح 8 سے 10 فٹ تک گر جانا ایک انتہائی خطرناک اور غیر معمولی صورتحال ہے، جو مستقبل میں بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ میں موجود متعدد سرکاری ٹیوب ویلز خراب پڑے ہیں یا اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے شہریوں کا انحصار نجی ٹینکروں پر بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹینکر مافیا پانی کی قلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں سے من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے، جبکہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزمرہ پانی کا حصول بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے شہریوں نے شکایت کی کہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں کئی کئی روز تک پانی فراہم نہیں کیا جاتا، جس کے باعث انہیں مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
بینک کالونی، آر کالونی اور دیگر متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے کہا کہ پانی کی قلت نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیماہرین نے تجویز دی کہ زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے غیر قانونی بورنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، نئے ٹیوب ویلز لگانے کے بجائے موجودہ وسائل کا بہتر انتظام کیا جائے، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے شروع کیے جائیں، ری چارج ویلز اور ری چارجنگ سسٹم قائم کیے جائیں، شجرکاری کو فروغ دیا جائے، پانی کے ضیاع کو روکا جائے اور شہریوں میں پانی کے محتاط استعمال کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں نئے ڈیم، چھوٹے آبی ذخائر اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبوں پر فوری کام شروع کیا جائے تاکہ مستقبل میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رفتار سے زیرِ زمین پانی گرتا رہا تو آنے والے برسوں میں کوئٹہ کے بیشتر علاقے خشک سالی جیسے حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں میں اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو بلوچستان کے اکثر علاقوں میں اب باغبانی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے اکثر علاقوں میں پانی کی شدید کمی کے بعد باغبانی بھی ختم ہوتی چلی جا رہی ہے ماہرین نے کہا ہے کہ ہماری ایک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ شہر میں 100 گھروں میں سے 88 فیصد گھر واٹر ٹینکر سپلائی پر چل رہے ہیں۔
شہریوں، سماجی تنظیموں اور ماہرین نے حکومت بلوچستان اور وزیراعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کے بحران کا فوری نوٹس لیا جائے، ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بورنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، واسا کے خراب ٹیوب ویلز کو فوری طور پر فعال بنایا جائے، نئے ڈیم اور آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں، ری چارجنگ سسٹم کو مثر بنایا جائے اور بینک کالونی، آر کالونی سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں پانی کی مستقل اور منصفانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کوئٹہ کو ایک بڑے آبی بحران سے بچایا جا ئے۔

WhatsApp
Get Alert