غریب کی تھالی کردی خالی! کھانے پینے کی اشیاء میں 10 فیصد اضافہ، ادارہ شماریات نے حقیقت بتادی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)شہباز حکومت کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار نے بھی عوامی مشکلات کی تصویر واضح کر دی جہاں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، حساس قیمتوں کے اشاریے (SPI) پر مبنی ہفتہ وار مہنگائی میں 0.91 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ٹماٹر، ڈیزل، انڈوں اور پیٹرول کے نرخوں میں بے تحاشا تیزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سب سے زیادہ تیزی ٹماٹر کی قیمت میں دیکھی گئی جو 39.92 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ ڈیزل 15.87 فیصد، انڈے 7.31 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 5.23 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔
دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگے ہونے والوں کی فہرست میں پیش پیش رہیں جن میں آلو 3.70 فیصد، ایل پی جی 0.91 فیصد، دال 0.72 فیصد، چائے پتی 0.59 فیصد، سرسوں کا تیل 0.45 فیصد، لہسن 0.41 فیصد، پکا ہوا گوشت 0.36 فیصد اور کپڑے دھونے کا صابن 0.21 فیصد تک مہنگا ریکارڈ کیا گیا۔
سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی جائے تو صورتحال انتہائی تشویشناک نظر آتی ہے جہاں حساس قیمتوں کے اشاریے میں مجموعی طور پر 9.66 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سالانہ تقابل کے مطابق ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا 253.04 فیصد، پیاز میں 81.55 فیصد، آٹے میں 74.13 فیصد، ایل پی جی میں 46.87 فیصد، ڈیزل میں 31.92 فیصد اور بجلی کے پہلے سہ ماہی کے نرخوں میں 22.79 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
سالانہ بنیادوں پر پیٹرول 20.32 فیصد، مٹن 16.02 فیصد، لال مرچ 15.20 فیصد، بیف 13.09 فیصد، کیلے 12.06 فیصد اور سادہ ڈبل روٹی 9.69 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہے۔
اس مہنگائی کے طوفان میں کچھ اشیاء کے نرخوں میں ہلکی سی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 4.66 فیصد، کیلے 1.72 فیصد، دال مونگ 1.08 فیصد، دال ماش 1.07 فیصد، اری 6/9 چاول 0.52 فیصد، دال مسور 0.40 فیصد، چینی 0.09 فیصد اور دال چنا کی قیمت میں 0.03 فیصد کمی واقع ہوئی۔
پی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے مجموعی طور پر 51 حساس اشیائے ضروری کی مارکیٹ ٹوکری کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 22 اشیاء (یعنی 43.14 فیصد حصہ) مہنگی ہوئیں صرف 8 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 21 اشیاء کے دام بالکل مستحکم رہے۔
