جو اختیارات پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں وہ مقتدرہ کے ایک آدمی کو دے دیئے گئے، مولانا فضل الرحمان


پشاور (قدرت روزنامہ) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جو اختیارات پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں وہ مقتدرہ کے ایک آدمی کو دے دیئے گئے۔ پشاور میں منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ کوئی آرمی چیف، چیف آف ڈیفنس فورسز یا فیلڈ مارشل بنے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ جو فیصلے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں تھے، وہ مقتدرہ کے ایک فرد کے سپرد کر دیے گئے اور آئندہ کی منظوری بھی وفاقی حکومت سے مشروط کر کے پارلیمنٹ کو عملدارآمد سے بالکل نکال دیا گیا۔

سربراہ جے یو آئی ف نے زور دیا کہ ادارے اپنے طے شدہ دائرہ کار سے تجاوز نہ کریں کیونکہ ملک میں صرف اور صرف پارلیمنٹ ہی سپریم ادارہ ہے، عدل و انصاف کے ساتھ کافر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم و نا انصافی کے ساتھ مسلمان کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی، راولاکوٹ میں تین ماہ سے احتجاج جاری ہے، وہاں عوام سڑکوں پر بیٹھے ہیں انتظامیہ اور حکمران ان سے بات چیت کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔
نئے صوبے بنانے سے متعلق جاری بحث پر انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی نہ تو کوئی تیاری ہے اور نہ ہی ویسا ماحول موجود ہے، بلکہ ایک مخصوص ادارے کی خواہش کو جبراً مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ملک پر اقلیت کی حکومت ہے، وزیراعظم شہبازشریف جب بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جاتے ہیں کیونکہ اگر وہ ساتھ نہ ہوں تو کوئی ان سے ہاتھ ملانے کو بھی تیار نہ ہو۔

WhatsApp
Get Alert