اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی اور فوجی افسر کی فائرنگ کا واقعہ
یونیورسٹی میں فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی، اس نے فون کرکے افسر کو بلا لیا پھر وہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، فوجی افسر کوان کے ادارے نے تحویل میں لے کرانکوائری شروع کر دی، حامد میر

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے عسکری ادارے نے ملوث فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے کر ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا آغاز کر دیا۔ معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے مطابق اسلام آباد کی ایک مقامی یونیورسٹی میں اس وقت ایک ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی جب ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ وہاں بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا، واقعہ رونما ہونے پر خاتون نے فون کرکے متعلقہ افسر کو موقع پر بلا لیا، جس کے بعد یونیورسٹی کے احاطے میں تنازعہ اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ عسکری ادارے نے فوری نوٹس لیتے ہوئے اپنے فوجی افسر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے انکوائری شروع کر دی گئی ہے، ملٹری ڈسپلن اور ضوابط کی خلاف ورزی پر مذکورہ افسر کے خلاف قانونی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی تاکہ قانون اور فوجی نظم و ضبط کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی میں ناخوشگوار واقع پیش آیا ایک فوجی افسر کی قریبی عزیزہ کے ساتھ بدتمیزی ہوئی اس نے فون کر کے افسر کو بلا لیا پھر وہاں یہ واقعہ ہو گیا فوجی افسر کوانکے ادارے نےتحویل میں لیکرانکوائری شروع کر دی ہےفوجی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر افسر کےخلاف سخت کارروائی ہو گی pic.twitter.com/Hzq6vPFjOz
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 24, 2026
اس معاملے پر صحافی طارق متین نے بتایا کہ یونیورسٹی فون کیا تو تصدیق کی گئی کہ افسر کے ساتھ موجود خاتون وہاں کام کرتی ہیں ان کا کسی اسٹاف ممبر سے تنازعہ تھا، یہ معاملہ کوئی مہینے سے زائد عرصہ ہوا چل رہا تھا جو آج بگڑ گیا، فوٹیج میں نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے ہوائی فائر کرنے سے پہلے گولی چلانے کی کوشش کی جو نہیں چل سکی ورنہ بہت نقصان ہو سکتا تھا۔
سرحد یونیورسٹی واقعہ
یونیورسٹی فون کیا تو تصدیق کی گئی کہ افسر کے ساتھ موجود خاتون وہاں کام کرتی ہیں ان کا کسی اسٹاف ممبر سے تنازع تھا۔ یہ معاملہ کوئی مہینے سے زائد عرصہ ہوا چل رہا تھا ۔
آج بگڑ گیا۔ فوٹیج میں نظر آ رہا ہے کہ انہوں نے ہوائی فائر کرنے سے پہلے گولی چلانے کی کوشش…
ان کا کہنا ہے کہ آرمی کے تحریری ضابطوں کے مطابق اس طرح عوامی مقام پر اسلحہ ساتھ نہیں رکھا جا سکتا، ان آفیسر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، ایک سابق فوجی افسر نے کہا ہے کہ ممکن ہی نہیں ملوث افسر اب نوکری پر برقرار رہ سکیں، کیوں کہ 2019ء میں ایک واقعہ ڈیرہ اسماعیل خان میں پیش آیا تھا وہاں ایک میجر نے ایک بچے پر تشدد کر دیا تھا تو انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا تھا۔
