ایک لاکھ ڈالر ویزا فیس! غیر ملکی ہنر مند ملازمین پریشان، امریکا چھوڑنے کی نوبت آئے گی؟

امریکہ (قدرت روزنامہ)امریکا میں ملازمت کرنے والے غیر ملکی ہنرمند افراد کے لیے H-1B ویزا فیس کا تنازع ایک بار پھر سامنے آگیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پیر کو H-1B درخواستوں پر 103,265 ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے جس کا دائرہ امریکا میں پہلے سے موجود اور ملازمت کرنے والے غیر ملکی کارکنوں تک بھی پھیلایا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی مجوزہ قانون سازی کے تحت ایسی کمپنیوں سے نئی فیس وصول کی جائے گی جو خصوصی مہارت رکھنے والے غیر ملکی ملازمین کے لیے H-1B درخواستیں جمع کرائیں گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایک وفاقی عدالت چند ہفتے قبل اس فیس کے پہلے ورژن کو مسترد کرچکی ہے۔

فیس دوبارہ کیوں لائی گئی؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب تقریباً ایک لاکھ ڈالر کی فیس ان افراد پر بھی لاگو کرنا چاہتی ہے جو پہلے ہی امریکا میں ملازمت کر رہے ہیں۔ اس سے قبل پیش کی گئی پالیسی کا زیادہ زور بیرون ملک سے نئے کارکنوں کو امریکا لانے پر تھا تاہم عدالت کی جانب سے ابتدائی حکم روکنے سے انکار کے بعد حکام نے پالیسی ختم کرنے کے بجائے اس کی نئی شکل تیار کی ہے۔

نئی تجویز میں کیا بدلے گا؟

مجوزہ فیس سالانہ حد کے تحت آنے والی تمام H-1B درخواستوں پر لاگو ہوگی جن میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والے امیدوار بھی شامل ہیں۔ تاہم یونیورسٹیوں، اسپتالوں اور تحقیقی اداروں کو اس فیس سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق اس سے حاصل ہونے والی رقم قانونی امیگریشن نظام، بشمول امیگریشن عدالتوں، کے اخراجات پر استعمال کی جائے گی۔

کیا H-1B ملازمین کو امریکا چھوڑنا پڑ سکتا ہے؟

امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف بھاری فیس تک محدود نہیں۔ وائٹ ہاؤس ایک ایسی تجویز کا بھی جائزہ لے رہا ہے جس کے تحت ملازمت سے محروم ہونے والے H-1B ملازمین کے لیے موجود 60 روزہ رعایتی مدت ختم کی جاسکتی ہے۔

موجودہ نظام میں ملازمت ختم ہونے کے بعد کارکن کو نیا اسپانسر تلاش کرنے کے لیے 60 دن ملتے ہیں تاہم یہ سہولت ختم ہونے کی صورت میں ملازم فوری طور پر اپنا قانونی اسٹیٹس کھو سکتا ہے اور اسے امریکا چھوڑنا پڑسکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نئی فیس اور ممکنہ تبدیلیوں کے بعد کمپنیوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ H-1B کارکنوں کی اسپانسرشپ ان کے لیے مالی طور پر قابلِ عمل رہتی ہے یا نہیں۔

پالیسی کا مستقبل کیا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق نئی تجویز کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، جیسا کہ پہلے کیا گیا تھا۔ دوسری جانب کمپنیوں کو غیر یقینی صورتحال کے باوجود اپنی بھرتیوں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ 2026 میں H-1B ویزا سے متعلق یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن ہنرمند غیر ملکی کارکنوں سے متعلق امیگریشن پالیسی میں مزید تبدیلیاں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert