اختلاف کے باوجود کسی سے پسند کرنے کا حق نہیں چھیننا چاہیے، منصور علی خان


لاہور (قدرت روزنامہ) اینکر پرسن منصور علی خان نے عمران خان کے حوالے سے حکومتی سیاسی بیانیے، مریم نواز کو بین الاقوامی انٹرویو دینے کے چیلنج اور سانحہ پمز کی جے آئی ٹی کے حوالے سے متعدد اہم سوالات اٹھا دیئے۔ اپنے پوڈ کاسٹ میں منصور علی خان کا کہنا تھا کہ میرے عمران خان سے بڑے اختلاف ہیں، لیکن میں کبھی بھی کسی سے پسند کرنے کا حق نہیں چھیننا چاہوں گا، میں یہ کبھی نہیں کہوں گا کہ مجھے کسی سے اختلاف ہے اور تمہیں پسند ہے تو تمہاری ایسی کی تیسی! اس طرح مت کرو، کوئی کسی کو پسند کرتا ہے یا تعریف کر رہا ہے تو کرنے دو، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔

عمران خان کے بیٹوں کے مائیکل ایتھرٹن کو دیئے گئے انٹرویو پر گفتگو کرتے ہوئے منصور علی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب پر سوالات اٹھائے کہ مائیکل ایتھرٹن کو ایک انٹرویو دینے کی ہمت کیوں نہیں کرتیں مریم نواز؟ اگر خود میں حوصلہ نہیں تو حسن نواز اور حسین نواز کو ہی بھیج دیں تاکہ وہ مائیکل ایتھرٹن کے سامنے بیٹھ کر اپنا مؤقف پیش کریں، پنجاب حکومت کے ماتحت ہی اڈیالہ جیل ہے، پھر اتنی گھبراہٹ کس بات کی؟ اگر عمران خان کا بیانیہ غلط ہے تو مائیکل ایتھرٹن کے سامنے بیٹھ کر اسے کاؤنٹر کریں اور دنیا کو اپنی حقیقت و اپنا مؤقف بتائیں۔
سانحہ پمز کی تحقیقاتی کمیٹی پر بات کرتے ہوئے اینکر پرسن نے وزیراعظم اور ایم کیو ایم کے رہنماء وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا ذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ سانحہ پمز پر شہباز شریف نے جے آئی ٹی تو بنا دی مگر وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا نام کہیں نظر نہیں آیا، ایسا لگتا ہے جیسے مصطفیٰ کمال کی سفارش ابھی بھی بہت تگڑی ہے، آخر شہباز شریف اتنے بھی بڑے بندے تھوڑی ہیں کہ وہ مصطفیٰ کمال سے استعفیٰ مانگ سکیں!۔

WhatsApp
Get Alert