وزارتِ اطلاعات کا عمران خان سے ملاقاتوں کا مؤقف گمراہ کن ہے، ہم مسترد کرتے ہیں، سلمان اکرم راجا

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جو مؤقف پیش کیا ہے، وہ گمراہ کن ہے،ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ مارچ 2025 سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا ایک فیصلہ اور حکم موجود ہے، جس میں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ ملاقات کی اجازت دی جائے۔ جس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔پاکستان کے قوانین اور بالخصوص صوبہ پنجاب کے جیل قوانین، جہاں اس وقت عمران خان قید ہیں، ایسی ملاقاتوں کی اجازت دیتے ہیں۔ عدالتوں نے بھی حکم دیا تھا کہ ان قوانین پر عمل کیا جائے اور عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ہر ہفتے کم از کم دو ملاقاتیں کروائی جائیں۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے کوئی ریکارڈ جھٹلا نہیں سکتا کہ 25 مارچ 2025 سے، جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بینچ کا یہ فیصلہ اور حکم جاری ہوا، اس حکم پر ایک مرتبہ بھی عمل نہیں کیا گیا۔اس کے بعد سے ایک بھی ایسا ہفتہ نہیں گزرا جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے حکم دی گئی دونوں ملاقاتیں کروائی گئی ہوں۔اکتوبر 2025 کے بعد تینوں بہنوں میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔اس کے بعد، یعنی 2 دسمبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک، عمران خان کی کسی بہن کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 18 اگست 2026 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، جہاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تشکیل دیے جانے والے ایک میڈیکل بورڈ کو ان کا معائنہ اور علاج کرنا تھا۔اس بورڈ میں ڈاکٹر فیصل سلطان، جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں، اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ، جو خود بھی ڈاکٹر ہیں، کو شامل کیا جانا تھا۔اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا یہ عمران خان کے حقوق کی نفی ہے، بطور خاندان عمران خان کی بہنوں کے حقوق کی نفی ہے، پاکستان کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، اور تشدد کی بین الاقوامی تعریف کے مطابق اسے تشدد کے زمرے میں بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔اس پورے عرصے کے دوران عمران خان کے وکلا کو بھی ان سے باقاعدگی کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور نہ ہی بشریٰ بی بی کے وکلا کو ان سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی گئی۔ عمران خان کے خلاف تقریباً 300 مقدمات درج ہیں، جو ملک کی مختلف عدالتوں میں استغاثے کے مختلف مراحل میں زیرِ سماعت ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کا سامنا کرنے والے ایک شخص کو اپنے وکلا سے مشاورت کی اجازت نہیں دی جاتی، جبکہ قانون کے مطابق اسے کم از کم ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت حاصل ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا دسمبر 2025 کے بعد اس پورے عرصے میں صرف ایک وکیل، جناب سلمان صفدر، کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے فروری 2026 میں بطور دوستِ عدالت عمران خان کے پاس بھیجا۔یہ اجازت جیل حکام یا ریاست کی جانب سے نہیں دی گئی تھی، بلکہ یہ سپریم کورٹ کا حکم تھا۔ اس وقت عمران خان کی نمائندگی مختلف مقدمات میں وکلا کی ایک ٹیم کر رہی ہے، ان تمام مقدمات میں شامل دیگر وکلا، جن میں میں خود بھی شامل ہوں، یہاں موجود جناب کھوسہ اور جناب انتظار پنجوتھہ صاحب بھی شامل ہیں، ان میں سے کسی کو بھی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ لہٰذا وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی یہ رپورٹ جھوٹی ہے یہ کہنا کہ عمران خان کو قانون کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور وکلا سے رابطے کی اجازت دی گئی، حقائق کے منافی مکمل من گھڑت بیان ہے۔
انہوں نے کہا جیل حکام کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر کی گئی توہینِ عدالت کی درخواستیں صرف فائلوں میں پڑی رہ گئیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے احکامات تو جاری کیے، لیکن ان احکامات پر عمل درآمد کرانے کے لیے بعد میں کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ جہاں تک عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ ہے، حکومتی رپورٹ میں یہ کہنا کہ ان کی 198 ملاقاتیں ہوئیں جن میں 900 سے زیادہ افراد شامل تھے، مکمل طور پر بے معنی اور غلط بات ہے۔ عمران خان 16 اکتوبر 2025 سے لے کر 18 اگست 2026 تک عملاً تنہائی کی قید میں رہے۔اسے عمران خان تک آزادانہ رسائی کیسے کہا جا سکتا ہے؟ ریاستِ پاکستان نے جان بوجھ کر عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا ہے۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟ یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔ وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔ اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔ 18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
انہوں نے کہا جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
