بدامنی قبضہ گرو قوتوں کی پیدا کردہ ہے، جہاں وسائل وہاں دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے، نواب ایاز خان جوگیزئی

پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے،انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں،گرین پاکستان پروجیکٹ پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے عوام اس سے دور رہیں


کامیاب تاریخی جرگہ کا انعقادپر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جرگہ نے اپنے وطن،عوام کے مستقبل کو سنوانے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے،کوئٹہ میں منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب
کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے پشتونخوامیپ کے چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی دعوت پر کوئٹہ میں 31,30اگست اور یکم ستمبر 2026منعقدہ سہ روزہ پشتون قومی جرگہ (جنوبی پشتونخوا)کے اختتام پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کامیاب تاریخی جرگہ کے انعقاد پر جنوبی پشتو نخوا کے تمام عوام اور پشتون قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اب ہم سب نے ہمت کرنی ہوگی اور اپنی حالت خود بدلنے کے لیے قدم اٹھانے ہوں گے۔ اتحاد اتفاق اور یگانگی کی جو مثال آج آپ نے پیش کی ہے یہ ہمارے تاریخ کا حصہ اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ پشتونخواوطن کی معدنیات اور تمام قدرتی خزانوں پر قبضہ جمانے کے لیے کچھ لوگوں نے ہمارے وطن کا سودا غیروں سے کر کے دہشت گردی کے ذریعے ہمیں اپنے وطن کی حق ملکیت حق کے حاکمیت اور حق کے خود ارادیت سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔جرگہ کی تمام کمیٹیاں قابل داد قابل تحسین ہیں۔آج جنوبی پشتونخوا نے اپنے تمام اضلاع میں 1400 سے زائد ممبران کا انتخاب کر کے اپنے مستقبل کو سنوارنے اور محفوظ بنانے کا تاریخی فیصلہ کیا ہر صورت میں اسے عملی جامع پہنا کر رہیں گے۔ بدامنی دراصل قبضہ گر قوتوں کی جانب سے پیدا کردہ ہے جہاں وسائل دریافت ہوں وہاں دہشت گردی کو پھیلایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو ڈرا، دھمکا کر قتل و غارت، خوف وہراس میں ڈال کر ان کی قدرتی وسائل پر قبضہ کیا جا سکے ان کی زمینیں الاٹ کی جائیں اور انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جائے۔21ویں صدی میں عوام کے ساتھ ایسی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ پشتونخوا و طن کو مختلف سازشوں کے ذریعے تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا گیا ہے، پہلے یہاں کے عوام کا معاشی قتل عام کیا گیا اور اب تو سرعام مختلف ناموں سے لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے وہ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔سہ روزہ جرگے میں مختلف مکتبہ فکر اور نظریات و زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں نے جو تقاریر کی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہر طرح کے حالات میں گزار کر سکتا ہے لیکن بد امنی میں نہیں۔ اب تو بدامنی،دہشت گردی اور لاقانونیت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ خود کو اپنے گھروں کے اندر بھی محفوظ نہیں سمجھ رہے۔ مختلف ناموں سے لوگوں کو یہاں لا کر بسایا جا رہا ہے اور پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے انہیں وقتا فوقتا استعمال کیا جائے گا۔ ان گھمبیر حالات اور دگرگوں صورتحال کو دیکھ کر شہدائے زیارت کے دھرنے سے ہی سب نے یہی تجویز پیش کی تھی کہ جرگہ بلا کر اپنے مسائل کے فیصلے اپنے مستقبل کے فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔آج کا یہ تین روزہ تاریخی جرگہ بنومنعقدہ 11تا 14مارچ 2022 جرگے کے فیصلوں کی کڑی ہے اور موجودہ صورتحال کو پرکھنے اور وطن کو بچانے کے لیے فیصلہ کن ادارہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے نے جو فیصلے کیے اور اپنے ادارے بنائے اب یہ ادارے خود ہی پشتونخواوطن کے تمام اندرونی خلفشار اور جھگڑوں،قبائلی رنجشوں کے فیصلے کرے گی اور تمام پشتون اپنی آپس کی رنجش اور دشمنیاں ختم کر کے متحد ومنظم ہوکر دشمن کے سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جرگے کی تمام کمیٹیاں اصل عوامی طاقت کا منبع ہوں گی۔ پشتنی دود دستور، اعلیٰ روایات، انصاف کے تقاضوں پر مبنی اور غیر جانبدارانہ فیصلوں پر انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ میں اب تک سینکڑوں قتل کے فیصلے کیے ہیں اور سب سے پہلے میں نے دشمنی میں دیت کے طور پر عورت دینے کی رسم کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جب میں نے نوابی کی دستار پہنی تو سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ عورت کو بدی، دشمنی میں عیوض کے طور پر نہیں دیا جائے گا جو بہت انسان دشمن رسم تھی ہمیں اپنی عورتوں کو جائیدادوں میں حصہ دینا ہوگا۔ عورت کو سیال بنانا ہوگا۔تب سے آج تک دشمنی میں عورت نہیں دی گئی جس پر میں تمام پشتون عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ہمیں عورتوں کو انسان سمجھنا ہوگا انہیں اپنا اسلامی اور پشتنی اعلیٰ روایات کے مطابق حق دینا ہوگا۔ نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ اگر چہ پشتون اللہ تعالیٰ کی جانب سے غریب پیدا نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے ایسے ٹکڑے کا مالک بنایا ہے جہاں دنیا کی سب سے قیمتی معدنیات وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہیں لیکن پشتون نوجوان اس کے باوجود دیار غیر میں پہلے محنت مزدوری تو اب کچرہ دانوں میں کچرہ چُننے میں مصروف ہیں۔اپنے وطن کے کوئلے، کرومائٹ اور دیگر معدنیات مزدور کی حیثت سے دوسروں کے لیے نکالتے ہیں یہ وطن ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے سروں کے قربانی کے نتیجے میں ایسے پالا کہ اس کے ایک ایک پتھر، درخت اور ایک ایک انچ زمین کے لیے نہ صرف پرائے قابضوں بلکہ اپنے لوگوں کا بھی خون بہایا ہے۔ پشتون تو اپنی زمینوں میں دوسرے گاؤں کے ریوڑوں، بھیڑ بکریوں کو بھی چرنے نہیں دیتے اس پر ایک دوسرے کے ساتھ دشمنیاں کرتے ہیں لیکن آج دوسرے صوبوں سے پرائے لوگ آکر لاکھوں ایکڑ زمین ایک کاغذ کے عیوض اپنے نام الاٹ کررہے ہیں۔ کیونکہ پشتونوں میں اتفاق کا فقدان ہے۔ اپنے آپس میں ذرا بھی رحم بردباری سے کام نہیں لیتے لیکن جب دوسروں نے ان کے تمام قیمتی خزانوں سے بھرے پہاڑ الاٹ کیئے تو اس پر خاموش ہیں۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ گرین پاکستان کا منصوبہ دراصل پشتون وطن پر قبضہ کا منصوبہ ہے اس منصوبے سے عوام کے دور رہنا ہوگا، ٹریکٹر، ٹیوب ویل، شمسی سولر کے لالچ دیکر زمینوں کے انتقالات کیئے جاتے ہیں اورسود درسودقرضوں کے ذریعے عوام کی زمینوں کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ زرعی ترقی وخوشحالی کے انقلاب کی باتیں پشتونوں کی زرعی بربادی پر منتج ہوں گی۔ تین سے چار لاکھ روپے دیکر بجلی ختم کردی گئی جو 6گھنٹے تک ملتی تھی ان 6گھنٹوں میں زمیندار اور عوام اپنے ضرورت کے مطابق پانی کا استعمال کرتے تھے اب سولر کے ذریعے صبح سے شام دن پانی کا استعمال اور ضیاع ہورہا ہے زیر زمین پانی کی سطح انتہائی نیچے چلی گئی ہے۔ لوگوں کو نہ صرف پینے کا صاف پانی کی قلت کا سامنا ہوگا بلکہ آبنوشی کا بحران پیدا ہوگا، پانی کی سطح کی کمی، ٹیوب ویل اور کنویں خشک، زمینیں بنجر ہونے لگیں گی۔ نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو مختلف نشئی مواد کا عادی بناکر انہیں ذہنی طو ر پر مفلوج کیا جاتا ہے ایک سازش کے تحت پشتونوں کے نئی نسل کو نشے کا عادی بناکر انہیں برباد کرکے اپنے حقوق کے مطالبے اور سیاسی جمہوری جدوجہد اور قومی تحریک سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں اور یہ نشئی مواد سرکاری جگہوں سے آتی ہیں۔قلعہ سیف اللہ میں افیون ہیروئن کی فصل کا خاتمہ ہوسکتا ہے تو قلعہ عبداللہ میں کیوں نہیں ہوسکتا، یہ کیسا قانون ہے کیسی انتظامیہ ہے، تمام وطن میں اس ناسورہیروئن کی فصل کا خاتمہ ضروری اور لازمی ہے اور اس ناسور نشے کے ذریعے ہمارے وطن کے بچوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ہمیں مل کر اپنے وطن اور اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بچانا ہوگا۔

WhatsApp
Get Alert