ووٹ کسی کو ملتا ہے، منتخب کوئی اور ہوجاتا ہے، خواجہ سعد رفیق
مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے ہر اس شخص کو ووٹ دیا جو جیل میں گیا ہے لیکن جیل میں ڈالنے والوں کو سمجھ نہیں آئی، وہ اسی کام پہ لگے ہوئے ہیں؛ سابق وفاقی وزیر و مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء کی گفتگو

لاہور(قدرت روزنامہ)مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک کی موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال، انتخابی نظام اور نئے صوبوں کی بحث پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ووٹ کسی اور کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے، اصل مسئلہ نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ نیت کا فتور اور آئین کی پامالی ہے۔
یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں منعقدہ ایک خصوصی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ ووٹ کسی کو ملتا ہے اور منتخب کوئی اور ہو جاتا ہے، مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں نے ہر اس شخص کو ووٹ دیا ہے جو جیل میں گیا ہے لیکن جیل میں ڈالنے والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی اور وہ اب بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔
کیونکہ جیلوں میں ڈالنے والے خود کو عقل کل سمجھتے ہیں۔ pic.twitter.com/zOB4T8hTya
— Shahid Aslam (@ShahidAslam87) September 5, 2026
ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق ن لیگی رہنما نے کہا کہ گورا انگریز چلا گیا لیکن کالا انگریز پیچھے چھوڑ گیا، محض نئے صوبے بنا دینے سے آبِ حیات یا امرت دھارا نہیں بہنے لگے گا، میں خود با اختیار بلدیاتی نظام اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا حامی ہوں مگر اصل مسئلہ آئین کا احترام اور نیت کی صفائی کا ہے، ضرور بنائیں چھوٹے صوبے لیکن پہلے ایک منتخب پارلیمنٹ بنائیں، جس پر کوئی اعتراض نہ کرے، قوم جس کوووٹ دے وہی پھر وزیراعظم بنے، وہی حکمرانی کرے۔
لاھور (UMT ) کے تحت مکالمے میں اظہار ِ خیال ( پارٹ 2 )
ٓآزاد کشمیربلوچستان نہ بن جائےکہیں؟ خیبر پختونخواہ میں کیا صورتحال بنی پڑی ہے۔
رات کو وہاں مسلح لوگ مخصوص علاقوں میں گشت کرتے ہیں ،وھاں انکاراج ھوتا ھے ،رات کے وقت کوئی اتھارٹی باقی نہیں رھتی
ہم آنکھیں بند کر کے کہیں… pic.twitter.com/4eF6HqjIFo— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 5, 2026
خواجہ سعد رفیق نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے تجاویز پیش کیں کہ ایک آزاد، غیر جانبدار اور بااختیار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے تاکہ شفاف انتخابات کے ذریعے عوام کا حقیقی فیصلہ تسلیم کیا جا سکے، انتخابی اصلاحات کی جائیں تاکہ ایک عام مڈل کلاس سیاسی کارکن بھی اسمبلی تک پہنچ سکے، اور ایک ایسی منتخب پارلیمنٹ بنے جس پر کوئی اعتراض نہ کر سکے، نئے جھگڑے کھڑے کرنے کی بجائے بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم، پراونشل فنانس کمیشن اور ایک مخصوص ڈسپلن کے تحت طلبہ یونینز کو فوری بحال کیا جائے۔
لاہور UMT میں پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے تحت مکالمے میں اظہارِ خیال — (پارٹ 3)
آئین کی حکمرانی ملک کے تمام طبقات کو تسلیم کرنا ہوگی ۔ ریاستی نظام میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہی ایک مستحکم جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔
ایک آزاد، غیر جانب دار ،خودمختار اور… pic.twitter.com/J4L3fed7KS
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) September 7, 2026
انہوں نے اعتراف کیا کہ عوام کے فیصلے بعض اوقات دلفریب نعروں کی وجہ سے غلط ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ یہ حق عوام کے پاس رہے کیونکہ وقت کے ساتھ چیزیں فلٹر ہو کر بہتر ہوتی ہیں اور بہتر سے مزید بہتری کی جانب جاتی ہیں، آئین میں تجاوزات کرنا بند کریں، پارلیمانی جمہوریت کو پارلیمانی آمریت میں تبدیل کرنا بند کریں،پارلیمانی جمہوریت کو پارلیمانی آمریت میں تبدیل کرنے کے بجائے آئین کی بالادستی اور سیاسی برداشت کو فروغ دیا جائے۔
