جنوبی پشتونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر شعوری منصوبہ بندی کا حصہ ہے، حکمران توسیع پسندانہ مقاصد کے لیے نئے بفر زون بنا رہے ہیں: خوشحال خان کاکڑ
افغان بارڈرز کی بلاجواز بندش سے اربوں ڈالر کی تجارت تباہ، پشتونوں کو وفاقی بجٹ سے دانستہ محروم اور معاشی طور پر تنہا کیا جا رہا ہے

دہشت گردی کی آڑ میں افغانستان کو ریزہ ریزہ کرنے کی سازشیں نامنظور، افغان عوام کو مرضی کے حکمران چننے اور خواتین کو تعلیم کا حق دیا جائے: پشتونخوا نیپ
ہمارے علاقوں پر غیروں کے جھوٹے دعوے اور مسلط کردہ مصنوعی بدامنی کی آڑ میں آپریشنز کسی صورت قبول نہیں، کارکنان منظم مزاحمت کی تیاری کریں
سوات (ڈیلی قدرت) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی پالیسی ساز ادارہ ہے۔ اس میں اراکین کی شرکت، تجاویز، معلومات اور تعمیری تنقید کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے قابلِ تحسین ہیں۔ ہمارے وطن، قوم اور مظلوم عوام کو بھی یہ امید ہے کہ پارٹی جمہوری اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے واضح مؤقف کے ساتھ جدوجہد کو مزید تیز کرے گی۔ دوسری جانب چیلنجز اور غیر یقینی صورتِ حال کے باعث ہمیں مزید ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوات میں منعقدہ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کی، جس میں مرکزی کمیٹی کے ملک بھر اور پشتونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل خورشید کاکاجی نے سیاسی و تنظیمی رپورٹ پیش کی، جبکہ آئندہ کے لائحۂ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے بھی کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ دنیا کے زوراور اور ممالک کی ترجیحات بدل رہی ہیں۔ ایران پر امریکی حملہ اور جنگ، جبکہ اس کے خلاف ایرانی قوم کا قومی جذبہ اور مزاحمت دنیا کی آزاد اقوام اور جمہوری تحریکوں کے لیے قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مزاحمت نے سپر پاور کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ اس جنگ میں معاشی منصوبہ بندی، اسلحے کے ذخائر اور دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی کئی پہلو ناکام رہے، جبکہ نیٹو جیسے اتحاد بھی فیصلہ کن کردار ادا نہ کرسکے۔ اس جنگ میں پوری دنیا کسی نہ کسی حوالے سے شامل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یمن کے حوثیوں کی مزاحمت میں تیزی نے نئی صورتِ حال کو جنم دیا ہے، جبکہ اس کے پیچھے مختلف قوتوں کی حمایت بھی خطے میں نئی صورتِ حال پیدا کر رہی ہے۔ خطے اور مختلف ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی مخصوص صورتِ حال ہمارے وطن پر بھی اثرانداز ہوگی۔ اس جنگ میں امریکہ کی ناکامی اسے نئی پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرسکتی ہے، جس میں معدنی وسائل، بالخصوص Rare Earth Elements (قیمتی اور نایاب معدنیات)، کو اہمیت حاصل ہوگی۔ ان معدنیات پر اس وقت چین کی اجارہ داری ہے اور جدید ٹیکنالوجی میں ان کا استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال میں ہمارے ملک کے حکمران اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے لیے نئے بفر زون بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا پشتونخوا نیپ کی قیادت اور کارکنوں کو تمام صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئے انتہائی تدبر اور دوراندیشی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں اضافہ ایک شعوری منصوبہ بندی کا حصہ ہے، اور اس میں جو بھی عناصر ملوث ہیں، وہ قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہیں۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارا دوسری اقوام کی قومی تحریکوں سے کوئی اختلاف نہیں، بلکہ ہم اعلیٰ انسانی اور جمہوری اصولوں کے مطابق ان کے جائز حقوق اور اختیارات کے حصول کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ تاہم ہم پر اثرانداز ہونے والے منفی طرزِ عمل کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ ہمارے شہروں اور علاقوں پر غلط دعوے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام کی تجارتی اور معاشی سرگرمیاں ختم ہورہی ہیں، ہماری زراعت روبہ زوال ہے، جبکہ پشتونخوا وطن کے مزدور عوام کو عرب ممالک سے نکالا جارہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ تمام راستوں کی بلاجواز بندش کے باعث اربوں ڈالر کی تجارت اور کاروبار متاثر ہوا ہے۔ مرکزی پی ایس ڈی پی میں جنوبی پشتونخوا کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ شامل نہیں، جبکہ خیبر پشتونخوا کو اس کے جائز فنڈز بھی نہیں دیے جارہے۔ بڑی شاہراہیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں، اور شاہراہوں کی عدم تحفظ اور مجموعی غیر یقینی صورتِ حال نے ہمارے عوام کے کاروبار پر مزید منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال میں پشتون ملت کو درپیش تحفظات انتہائی برحق ہیں۔ ایسے حقیقی مسائل پر آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ ہمارے علاقوں میں غیروں کی جانب سے پیدا کردہ بدامنی کو بنیاد بنا کر آپریشنز کا جواز پیدا کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حالات و واقعات کا درست تجزیہ کرتے ہوئے اپنی پالیسی تشکیل دینا ہوگی اور اپنی قوم کی قومی برابری، قومی واک و اختیار اور قومی وحدت کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اور افغان عوام پر دہشت گردی کے نام پر حملے قابلِ قبول نہیں، بلکہ اس کا مقصد افغانستان کو ریزہ ریزہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اور سعودی عرب کے درمیان کاروباری معاہدہ، جبکہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ معاہدہ، خطے میں نئی شروعات ہیں اور ان کے ہمارے وطن پر بھی الگ الگ اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ افغان ملت کو درپیش دردناک صورتِ حال کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ افغان عوام کو دنیا کے اعلیٰ انسانی، اسلامی اور پشتنی اصولوں کے مطابق تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ انہیں اپنی مرضی کے حکمران منتخب کرنے کا حق دینا لازمی ہے،

جبکہ مرد و خواتین دونوں کو تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ جدید تعلیم کے حصول کے بغیر ترقی، خوشحالی اور باعزت زندگی گزارنا ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو ان حساس حالات کا ادراک کرتے ہوئے مزید سنجیدگی، سیاسی بصیرت اور علمی صلاحیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں بروقت پوری کرنا ہوں گی۔ غیر ضروری بحث و مباحثے اور بلاجواز دوسروں کے بیانیوں کے ترجمان بننے سے مکمل گریز کرنا ہوگا۔ پارٹی کے بیانیے اور مثبت اقدار کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ سوات سے لے کر سبی تک پشتونخوا وطن پر مسلط مصنوعی دہشت گردی سے نجات کے لیے مزید منظم اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کے لیے اتحادی سیاست کو ترجیح دینا ہوگی۔ ہماری پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کا اخلاص، ہمت اور جرات قابلِ تحسین ہے، لیکن ہمیں اپنی اعلیٰ پشتنی، معاشرتی اور جمہوری اقدار کا پاس رکھتے ہوئے کسی سے بغض کی بنیاد پر مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے بالخصوص سوشل میڈیا کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے وطن، اپنی قوم اور اپنی تحریک کے لیے مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔ بلاجواز ضد اور انا پرستی کو ترک کرکے وسیع النظر اور وطن دوست کارکن کی حیثیت سے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے خواتین ونگ کی فعالیت اور پروگراموں کا انعقاد خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے۔ خواتین ونگ کو مزید فعال، وسیع اور منظم کرنے کی ضرورت ہے۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی کے موقع پر قلعہ سیف اللہ میں تاریخی جلسے کا انعقاد پارٹی کے عہدیداروں، کارکنوں اور ہمدردوں کی محنت و اخلاص اور ہمارے غیور عوام کی تائید و حمایت کا نتیجہ ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے پارٹی فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ایک ایک کارکن کا خیال رکھتے ہوئے اپنے کام سے کام رکھنا اور پارٹی کی تنظیمی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے خیبر پشتونخوا پارٹی، سوات پارٹی، پشتونخوا ایس او اور مختلف انتظامی کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ سوات کے غیور عوام نے ہمارے سینکڑوں ساتھیوں کو مہمان بنا کر اپنی پشتنی غیرت، روایات اور محبت کے ساتھ خدمت کی ہے۔ ہم سوات کے ان تمام گھرانوں کے مرد و خواتین کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
