کوئٹہ میں بدامنی عروج پر، تھانوں میں جرائم کی ایف آئی آر کے بجائے ابتدائی رپورٹ کا ٹرخاؤ جاری: جے یو آئی
ڈکیتی کو معمولی چوری میں بدلنا مظلوم سے ناانصافی اور جرائم پیشہ عناصر کی کھلی حوصلہ افزائی ہے

حکومت کی رٹ ختم ہو چکی، آئی جی پولیس نوٹس لیں اور شہریوں کو انصاف کے حصول میں غیر ضروری رکاوٹوں سے نجات دلائیں: مولانا عبدالرحمن رفیق
کوئٹہ(ڈیلی قدرت)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، مولانا محب اللہ، مولانا محمد ایوب، شیخ مولانا عبدالاحد محمد حسنی، مولانا سعید احمد، حافظ سراج الدین، مفتی محمد روزی خان بادیزئی، مولانا محمد شعیب جدون، رحیم الدین ایڈووکیٹ اور مولانا محمد عارف شمشیر نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بدامنی اور لاقانونیت عروج پر پہنچ چکی ہے اور رٹِ حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی، شہر کے تھانوں کی کارکردگی پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اکثر پولیس اسٹیشنوں میں جرائم کی باقاعدہ ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی بلکہ ابتدائی رپورٹ کے نام پر سائلین کو ٹرخا دیا جاتا ہے، جو عوام کے ساتھ کھلی زیادتی اور قانون کی خلاف ورزی ہے، ڈکیتی جیسے سنگین جرم کو معمولی چوری کی واردات میں تبدیل کرنا نہ صرف مظلوم کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی اور جرائم کے اصل اعداد و شمار چھپانے کے مترادف ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ واقعے کی فوری طور پر قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد اور ایف آئی آر کے اندراج سے گریز کرنے والے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام تھانوں کو واضح ہدایات جاری کریں کہ ہر شہری کی شکایت پر قانون کے مطابق فوری مقدمہ درج کیا جائے اور عوام کو انصاف کے حصول میں غیر ضروری رکاوٹوں سے نجات دلائی جائے۔
